data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260205-01-10
غزہ /تل ابیب /دبئی (مانیٹرنگ ڈیسک) ٹرمپ انتظامیہ اور دیگر ثالث ممالک غزہ میں مکمل جنگ بندی کرانے میں ناکام ہو گئے ۔ غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں گزشتہ روز بھی جاری رہیں، حملوں میںحماس کے اعلیٰ کمانڈر بلال سمیت22 فلسطینی شہید ہوگئے۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی غزہ کے علاقے میں حماس کی ایلیٹ نْخبا فورس کے اعلیٰ کمانڈر کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق ترجمان فوج نے بتایا کہ حماس نے شمالی غزہ میں رات گئے اسرائیلی اہلکاروں پر حملے کیا جس میں ایک افسر شدید زخمی ہوگیا تھا جس کے جواب میں اسرائیلی فضائیہ نے جنوبی غزہ کے ایک علاقے میں فضائی کارروائی میں حماس کے کمانڈر بلال ابو عاصی کو نشانہ بنایا‘ بلال ابو عاصی، حماس کی نْخبا فورس کے پلاٹون کمانڈر تھے اور 7 اکتوبر 2023ء کو اسرائیل کے دو علاقوں پر یلغار کی قیادت کی تھی۔عرب میڈیا کے مطابق غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی نے بتایا ہے کہ بدھ کو اسرائیلی فضائی حملوں میں 21 افراد شہید اور کم از کم 31 زخمی ہوئے۔ خان یونس میں بے گھر فلسطینیوں کے گھروں اور خیموں پر حملوں کے بعد 3 لاشیں اسپتال لائی گئیں۔ الشفا اسپتال کے ڈائریکٹر محمد ابو سلمیہ نے بیان میں کہا کہ اسپتال میں درجنوں زخمی بھی لائے گئے۔ ادویات اور طبی سامان کی شدید قلت کے باعث غزہ کے اسپتالوں میں صورتحال نہایت سنگین ہے۔دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی فوج پر فائرنگ کے بعد جوابی کارروائی کی، جس میں ایک افسر شدید زخمی ہوا۔ نابلس ضلع میں درجنوں فلسطینیوں سے اسرائیلی فورسز کی تفتیش جاری ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق صہیونی فوج نے مغربی کنارے سے مزید 25 بے گناہ فلسطینی گرفتار کرلیا۔اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) نے کہا ہے کہ بدھ کو غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں پر قابض اسرائیل کی مجرمانہ بمباری کے نتیجے میں بچوں اور ایک طبی امدادی کارکن سمیت 22 سے زاید شہری شہید ہوئے، جو دراصل نسل کشی کی جنگ اور جاری جارحیت کا براہ راست تسلسل ہے۔ حماس نے اپنے ایک بیان میں اس بات پر زور دیا کہ اس جارحیت میں تیزی لانا جنگی مجرم بنجمن نیتن یاہو کے ان ناپاک عزائم کی تصدیق کرتا ہے جن کا مقصد جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد کو روکنا اور خاص طور پر رفح کراسنگ کی بحالی میں رکاوٹیں ڈالنا ہے۔ بیان میں اشارہ کیا گیا کہ مجرم اسرائیل کی جانب سے اپنے ایک فوجی پر فائرنگ کے واقعے کے دعوے محض بے بنیاد بہانے ہیں تاکہ ہماری قوم کے خلاف قتل و غارت اور جارحیت کو جاری رکھا جا سکے۔ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے صدر کے سفارتی مشیر انور قرقاش کا کہنا ہے کہ غزہ اور ایران دونوں کا حل طاقت نہیں سفارتکاری ہے‘ غزہ کا مستقبل فلسطینی ریاست اور اسرائیلی سلامتی سے جڑا ہے۔ دبئی سمٹ میں گفتگو کرتے ہوئے انور قرقاش کا کہنا تھا کہ غزہ میں استحکام سیاسی حل سے ممکن ہے، غزہ میں استحکام اس وقت تک ممکن نہیں جب تک فلسطینی ریاست کے قیام اور اسرائیلی سلامتی دونوں محاذوں پر بیک وقت پیش رفت نہ ہو، یہ پیش رفت علاقائی اور عالمی تعاون کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ.