غزہ: جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملے جاری، بچوں سمیت 21 فلسطینی شہید
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیاں بدستور جاری ہیں، جہاں تازہ فضائی حملوں کے نتیجے میں بچوں سمیت کم از کم 21 فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔
یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب امریکا کی ثالثی میں طے پانے والی جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کو شروع ہوئے ایک ماہ گزر چکا ہے، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس منظر پیش کر رہے ہیں۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی نے تصدیق کی ہے کہ بدھ کے روز اسرائیلی فضائی کارروائیوں میں کم از کم 21 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 31 سے زائد افراد زخمی ہوئے، خان یونس میں بے گھر فلسطینیوں کے لیے قائم عارضی رہائش گاہوں اور خیموں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد تین لاشیں اسپتال منتقل کی گئیں۔
الشفا اسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد ابو سلمیہ نے بتایا کہ حملوں کے بعد درجنوں زخمیوں کو اسپتال لایا گیا، تاہم ادویات، طبی آلات اور ایندھن کی شدید قلت کے باعث طبی عملے کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
محمد ابو سلمیہ کا کہنا تھا کہ غزہ کے بیشتر اسپتال ہنگامی حالت میں کام کر رہے ہیں اور زخمیوں کو مکمل طبی سہولیات فراہم کرنا ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس نے اپنی فوج پر فائرنگ کے بعد جوابی کارروائی کی۔ اسرائیلی بیان کے مطابق اس واقعے میں ان کا ایک افسر شدید زخمی ہوا، جس کے بعد فضائی حملے کیے گئے۔
حماس کی جانب سے اسرائیل پر جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں غزہ میں بڑھتے جانی نقصان اور انسانی بحران پر شدید تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے بعد
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔