data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی میں دماغی اور اعصابی امراض کے علاج و بحالی کے لیے قائم کیے گئے ادارے کراچی انسٹیٹیوٹ آف نیورولوجیکل ڈیزیزز اینڈ ری ہیبلی ٹیشن (KIND-R) کا باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا ہے۔

کراچی انسٹیٹیوٹ آف نیورولوجیکل ڈیزیزز اینڈ ری ہیبلی ٹیشن میں روزانہ ایک ہزار مریضوں کو مفت طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں 150 بستروں پر مشتمل رہائشی وارڈ قائم کیا جائے گا تاکہ مریضوں کو مسلسل علاج اور نگرانی فراہم کی جا سکے، تیسرے مرحلے میں ملک کے 130 اضلاع میں سینٹرلائزڈ ری ہیبلیٹیشن سینٹرز اور میڈیکل کالج و یونیورسٹی قائم کرنے کا طویل المدتی منصوبہ بھی شامل ہے، جو پاکستان میں نیورولوجی اور ری ہیبلی ٹیشن کے شعبے میں نئے معیار قائم کرے گا۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے KIND-R کے چیئر مین پروفیسر ڈاکٹر محمد واسع نے کہا کہ یہ ادارہ 53 ہزار اسکوائر فٹ میں قائم ملک کا پہلا ادارہ ہے جو دماغی، اعصابی اور نفسیاتی امراض کے علاج کے لیے روزانہ ایک ہزار مریضوں کو مفت خدمات فراہم کر رہا ہے، ادارے کا مقصد مریضوں کو صرف علاج فراہم کرنا نہیں بلکہ انہیں معاشرے کا فعال اور کارآمد فرد بنانا بھی ہے۔

ڈاکٹر محمد واسع نے بتایا کہ اگلے مرحلے میں 150 بستروں پر مشتمل ان پیشنٹ وارڈ قائم کیا جائے گا جبکہ تیسرے مرحلے میں پاکستان کے 130 اضلاع میں سینٹرلائزڈ ری ہیب سینٹرز، میڈیکل کالج اور یونیورسٹی کے قیام کا منصوبہ شامل ہے۔

ہیلپنگ ہینڈ امریکہ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جاوید صدیقی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ KIND-R پاکستان میں ہیلپنگ ہینڈ کا تاریخی اور فلیگ شپ منصوبہ ہے، ہیلپنگ ہینڈ سالانہ تقریباً ساڑھے چار ارب روپے صحت، تعلیم اور سماجی فلاح کے منصوبوں پر خرچ کرتا ہے، جبکہ سیلاب اور دیگر قدرتی آفات کے لیے پانچ ارب روپے مختص کیے جاتے ہیں۔

جاوید صدیقی نے کہا کہ ہیلپنگ ہینڈ امدادی سرگرمیوں تک محدود نہیں بلکہ مستقل اور معیاری حل فراہم کرنے پر یقین رکھتا ہے، اور KIND-R اسی وژن کی عملی مثال ہے۔

انہوں نے عوام اور میڈیا سے اپیل کی کہ وہ اس تاریخی منصوبے کا حصہ بنیں اور مستحق مریضوں کی خدمت کے لیے تعاون کریں۔

ادارے میں نیورولوجی اور اعصابی OPD، ذہنی و نفسیاتی ماہرین، جدید فزیوتھراپی اور ری ہیبلی ٹیشن مشینری، روبوٹک گیٹ ٹریننگ، AI بیسڈ اسپائنل ڈی کمپریشن اور مکمل میڈیکل ڈائیگنوسٹک سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جہاں مستحق مریضوں کے لیے فری اور سبسڈائزڈ علاج اور بحالی کی سہولت دستیاب ہے۔

ڈاکٹر محسن انصاری نے کہا کہ KIND-R محض ایک طبی ادارہ نہیں بلکہ امید، بحالی اور وقارِ انسانیت کی علامت ہے، جو اعصابی اور دماغی امراض کے مریضوں کے لیے مؤثر سہارا فراہم کرے گا، HHRD USA دنیا کے 80 ممالک میں تعلیم، صحت، ریلیف اور انسانی فلاح کے بڑے منصوبے کامیابی سے چلا رہا ہے، اور KIND-R اسی عالمی مشن کی ایک نمایاں مثال ہے۔

افتتاحی تقریب میں پروفیسر ڈاکٹر عبد المالک، ڈاکٹر اظہر چغتائی، ڈاکٹر ثاقب انصاری، گلشنِ اقبال ٹاؤن کے ناظم ڈاکٹر فواد احمد، معروف کرکٹر و کپتان یونس خان، مریض، پیرا میڈیکل اسٹاف اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد بڑی تعداد میں موجود
تھے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں ایک کروڑ افراد دماغی و اعصابی امراض کا شکار ہیں، جن میں چالیس فیصد بچے شامل ہیں۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ری ہیبلی ٹیشن ہیلپنگ ہینڈ مرحلے میں مریضوں کو کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔

اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔

بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے