کینسر سے نجات کے لیے آگاہی، بروقت تشخیص اور اجتماعی اقدامات ناگزیر ہیں، سردار ایاز صادق
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے عالمی یومِ کینسر کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ کینسر ایک عالمی چیلنج ہے جو بلا امتیاز قوم، جنس اور عمر، لاکھوں افراد کو متاثر کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دن ہمیں اس موذی مرض کے حوالے سے آگاہی، بروقت تشخیص، مؤثر علاج اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت کی یاد دہانی کراتا ہے، تاکہ بیماری سے نمٹنے کے لیے بروقت اور مؤثر اقدامات ممکن بنائے جا سکیں۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ اس سال عالمی یومِ کینسر کا تھیم “یونائٹڈ بائے یونیک” اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ ہر مریض کا کینسر سے مقابلہ منفرد ہوتا ہے، تاہم اس جدوجہد میں حکومت، طبی ماہرین، سول سوسائٹی، میڈیا اور عوام کو متحد ہو کر کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ صحت کے شعبے میں پالیسی سازی کے دوران مریضوں کی انفرادی ضروریات کو مدنظر رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اسپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ جدید تحقیق اور بہتر طبی سہولیات کے باعث کینسر کے علاج میں بہتری آئی ہے، تاہم بیماری سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے صحت مند طرزِ زندگی، باقاعدہ طبی معائنہ اور بروقت تشخیص ناگزیر ہیں۔ انہوں نے عوام میں شعور اجاگر کرنے، خطرات سے آگاہی اور بروقت چیک اپ کے فروغ کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ صحت کے شعبے کو مضبوط بنانے، کینسر کے مریضوں کے علاج تک رسائی بہتر بنانے اور تحقیق کے فروغ کے لیے ہر ممکن قانون سازی کے لیے پرعزم ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے حکومتِ پاکستان کی جانب سے ستمبر 2025ء میں شروع کی گئی قومی ایچ پی وی ویکسینیشن مہم کو ایک تاریخی اور قابلِ تحسین اقدام قرار دیا، جس کے تحت 9 سے 14 سال کی عمر کی بچیوں کو مفت ویکسین فراہم کی جا رہی ہے تاکہ خواتین میں کینسر کی دوسری بڑی قسم، سروائیکل کینسر، سے بچاؤ ممکن بنایا جا سکے۔
انہوں نے سول سوسائٹی، میڈیا اور عوام پر زور دیا کہ وہ اس ویکسین کی افادیت سے متعلق آگاہی پھیلانے، غلط فہمیوں کے ازالے اور والدین کو اپنی بچیوں کی ویکسینیشن یقینی بنانے میں فعال کردار ادا کریں
اسپیکر قومی اسمبلی نے پنجاب حکومت اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے کینسر کے علاج کے شعبے میں کیے گئے اقدامات کو سراہتے ہوئے لاہور میں پاکستان کے پہلے اعلیٰ درجے کے کو-ایبلیکشن کینسر ٹریٹمنٹ سینٹر کے قیام کو ایک اہم سنگِ میل قرار دیا، جہاں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مریضوں کو مؤثر اور معیاری علاج کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدام عام عوام، بالخصوص کم وسائل رکھنے والے مریضوں کے لیے کینسر کے علاج تک رسائی کو آسان بنائے گا۔
اسپیکر سردار ایاز صادق نے کینسر کے مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے کو کینسر کے مریضوں کے ساتھ ہمدردی، تعاون اور مثبت رویہ اختیار کرنا چاہیے تاکہ وہ اس بیماری کے خلاف حوصلے اور اعتماد کے ساتھ جدوجہد کر سکیں۔
ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی سید غلام مصطفیٰ شاہ نے اپنے پیغام میں کہا کہ کینسر سے متعلق آگاہی میں اضافہ اور طبی سہولیات تک مساوی رسائی وقت کی اہم ضرورت ہے، اور قومی سطح پر مربوط حکمتِ عملی کے ذریعے اس مرض کے خلاف مؤثر انداز میں جدوجہد کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم ذمہ دارانہ رویہ اختیار کر کے اپنی اور اپنے ارد گر کے افراد کی صحت کے تحفظ کو یقینی بنا سکتے ہیں اور متحد ہو کر ہی ہم کینسر جیسے موذی مرض کے خلاف جنگ جیت سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق انہوں نے کہا کہ کینسر کے کے علاج کے لیے
پڑھیں:
بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
اسلام ٹائمز: یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ تنظیم عملاً ہر قسم کی سیاسی یا جماعتی سرگرمیوں سے دور رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کو بحرین میں شیعہ اداروں کے خلاف جاری دباؤ اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ تنظیم ایک ثقافتی، سماجی اور دینی پلیٹ فارم کے طور پر معروف رہی ہے، جو بنیادی طور پر سماجی اور تربیتی امور پر توجہ دیتی رہی ہے۔ خصوصی رپورٹ:
بحرینی حکام نے سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر (19) کے تحت جمعیۃ التوعیۃ الاسلامیۃ (اسلامی آگاہی سوسائٹی) کو تحلیل کرنے کا فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ یہ ادارہ بحرین میں شیعہ آبادی کی سب سے نمایاں ثقافتی اور سماجی تنظیم سمجھا جاتا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ تنظیم عملاً ہر قسم کی سیاسی یا جماعتی سرگرمیوں سے دور رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کو بحرین میں شیعہ اداروں کے خلاف جاری دباؤ اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ تنظیم ایک ثقافتی، سماجی اور دینی پلیٹ فارم کے طور پر معروف رہی ہے، جو بنیادی طور پر سماجی اور تربیتی امور پر توجہ دیتی رہی ہے۔
یہ فیصلہ محض ایک انتظامی اقدام نہیں بلکہ اس کے سیاسی اور سماجی اثرات بھی ہیں۔ بحرین کے شیعہ معاشرے میں اس تنظیم کی اہمیت کے پیش نظر، اسے نشانہ بنانا وسیع حلقوں کی نظر میں شیعہ برادری کے خلاف محدودیت پسند پالیسیوں کا تسلسل سمجھا جا رہا ہے، خصوصاً گزشتہ برسوں میں اس طبقے کے خلاف کیے جانے والے متعدد اقدامات کے تناظر میں۔ یہ تنظیم، جو اس سے قبل بھی مختلف سخت اور غیر منصفانہ کارروائیوں کا نشانہ بن چکی ہے، 1972ء میں بحرین کے ممتاز دینی علماء کے ایک گروہ نے آیت اللہ شیخ عیسیٰ قاسم کی قیادت میں قائم کی تھی۔ بعد ازاں یہ بحرین اور خطے کی سب سے بڑی ثقافتی اور سماجی تنظیموں میں شمار ہونے لگی۔
اس تنظیم کی تحلیل کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ بحرینی حکام نے پہلی مرتبہ فروری 1984ء میں اس تنظیم کو بند کیا تھا اور یہ پابندی 2001ء تک برقرار رہی۔ بعد ازاں قومی منشور پر ہونے والے ریفرنڈم اور ملک میں نسبتاً سیاسی کشادگی کے دور میں اسے دوبارہ سرگرمیوں کی اجازت دی گئی۔ اس کے بعد جون 2016ء میں، شیعہ مذہبی شخصیات اور اداروں کے خلاف وسیع کارروائیوں کے دوران، حکام نے ایک مرتبہ پھر اس تنظیم کو تحلیل کرنے کا حکم جاری کیا۔ 9 جون 2022ء کو تحلیل کا فیصلہ منسوخ کر دیا گیا اور تنظیم نے اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دیں، تاہم اس کی سرگرمیاں مسلسل مختلف پابندیوں کے حصار میں رہیں۔
ان پابندیوں میں قانونی و انتظامی کارروائیاں، تنظیم سے وابستہ ذمہ داران کے خلاف مقدمات، بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تحلیل اور بعض سرگرمیوں کی جبری معطلی شامل تھیں۔ بالآخر تنظیم کے سربراہ اور تین دیگر کارکنان کو بھی اسی ادارے میں اپنی سرگرمیوں کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا، جسے اپوزیشن اور مخالف حلقوں کے ساتھ سکیورٹی طرزِ عمل کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔ سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر (19) کے اجرا کے ساتھ اسلامی آگاہی سوسائٹی ایک بار پھر اپنی مسلسل بندشوں اور پابندیوں کی تاریخ کے نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ اس پیش رفت نے بحرین میں مذہبی آزادیوں کے بارے میں مزید سوالات کو جنم دیا ہے، حالانکہ حکومت خود کو رواداری اور پرامن بقائے باہمی کا داعی قرار دیتی ہے۔
اس تنظیم کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کی تاریخی ترتیب کا جائزہ لیا جائے تو حالیہ تحلیل کو محض ایک انتظامی یا قانونی اختلاف قرار دینا مشکل دکھائی دیتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ 54 برس قبل اپنے قیام سے لے کر آج تک یہ ادارہ اپنی ثقافتی، سماجی اور دینی شناخت کے حوالے سے جانا جاتا رہا ہے۔ دوسری جانب، تنظیم کو بند کرنے کے اقدامات کو ملک کے سب سے بڑے سماجی طبقے کے حوالے سے حکومتی تنگ نظری کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ پالیسیاں معاشرے کو قابو میں رکھنے اور محدود کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں، جو باہمی اعتماد کو کمزور کرتی ہیں اور بحرین کے وسیع ترین عوامی طبقے کو سیاسی و سماجی طور پر حاشیے پر دھکیلنے کے رجحان کو مزید تقویت دیتی ہیں۔