سندھ آباد گار بورڈ کا گندم پالیسی واضح نہ ہونے پر تشویش کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدر آباد (اسٹاف رپورٹر) سندھ آبادگار بورڈ نے گندم پالیسی میں وضاحت نہ ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سندھ آبادگار بورڈ نے حکومت کی جانب سے طویل عرصے سے زرعی شعبے کی عدم توجہی اور گندم پالیسی میں واضح نہ ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی عدم توجہی سے زرعی شعبے کو بہت نقصان پہنچ رہا ہے۔ گندم کی دو فصلیں گزرنے کے باوجود حکومت ابھی تک گندم کی پالیسی واضح نہیں کر سکی۔ حیدرآباد میں سندھ کسان بورڈ کا اجلاس سینئر نائب صدر سید ندیم شاہ کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں ڈاکٹر ذوالفقار یوسفانی، سید زین شاہ، ڈاکٹر محمد بشیر نظامانی، محمد ملوک نظامانی، اسلم مری، عمران بزدار، طحہ میمن، ملک محمد نظامانی، امیر علی تھیبے، شاہنواز برمانی، شاہنواز برمانی اور مختلف ضلعوں کے کسانوں نے شرکت کی۔ سندھ کسان بورڈ نے کہا ہے کہ گزشتہ دو سال سے نہ تو گندم خریدی گئی ہے اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی پالیسی واضح کی گئی ہے جس کی وجہ سے کاشتکار تذبذب کا شکار ہیں۔ اوپن مارکیٹ میں صورتحال یہ ہے کہ کٹائی کے دوران کسانوں سے گندم انتہائی کم قیمت پر خریدی جاتی ہے اور بعد میں اسے مہنگا کر دیا جاتا ہے جس سے ایک طرف کسانوں کو نقصان ہوتا ہے تو دوسری طرف آٹے کی قیمت بڑھنے سے عام آدمی بھی متاثر ہوتا ہے۔ سندھ آبادگار بورڈ نے مزید کہا کہ حکومت کبھی گندم کی قیمت 3500 روپے مقرر کرنے کی بات کرتی ہے اور کبھی نجی شعبے سے خریداری کی بات کرتی ہے تاہم ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا اس لیے وفاقی اور صوبائی حکومتیں واضح کریں کہ گندم کے حوالے سے ان کی پالیسی کیا ہے۔ سندھ آبادگار بورڈ نے افغانستان کے ساتھ تجارت کی بندش کے زراعت پر پڑنے والے منفی اثرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ افغانستان کے ساتھ تجارت کی بندش سے سندھ کی زرعی معیشت کو بڑا دھچکا لگا ہے۔ کیلے کی قیمت آدھی، سبزیوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ آم کے سیزن میں آم کی تجارت شدید متاثر ہونے کے امکانات ہیں۔ اس لیے حکومت کو چاہیے کہ اس معاملے میں کوئی متبادل حل نکالے یا کوئی اور بہتر حکمت عملی اپنائے جس سے زرعی معیشت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔ سندھ آبادگار بورڈ نے بھی متنازعہ نہروں کے معاملے کو غیر متعلقہ حکومتی فورمز میں زیر غور لانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ کچھ عرصے سے متنازعہ نہروں کے معاملے کو غیر متعلقہ حکومتی فورمز میں زیر غور لانے جیسی کارروائیاں ہو رہی ہیں جو کہ آئین سے بالاتر ہیں کیونکہ ایسے معاملات کو کسی بڑے آئینی فورم میں ہی زیر غور لایا جا سکتا ہے۔ ایک طرف یہ مطلوبہ مقدار سے کم پانی لے جا رہا ہے تو دوسری طرف اس کی کٹائی نہیں ہو رہی جس کی وجہ سے پانی آخری حد تک نہیں پہنچ رہا۔ سندھ آبادگار بورڈ نے مطالبہ کیا کہ دادو کینال کی فوری کٹنگ کی جائے تاکہ کسانوں کو مارچ میں مطلوبہ پانی مل سکے۔سندھ فارمرز بورڈ کے اجلاس میں کسانوں کو سبزیوں کا معیاری بیج نہ ملنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ سندھ زرعی تحقیقاتی ادارے نے معیاری بیج کے معاملے میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں کی اور نہ ہی کسانوں کو اس بارے میں کوئی اطلاع دی جا رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سندھ ا بادگار بورڈ نے تشویش کا اظہار کسانوں کو کی قیمت
پڑھیں:
کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔
ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔