پاک فضائیہ کی جانب سے بھارتی فضائیہ کو پہنچائے گئے نقصان کی تفصیلات سامنے آگئیں
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
بھارت کے ساتھ ہونے والے معرکے میں پاک فضائیہ نے دشمن کو دھول چٹا دی، معرکے کے دوران بھارتی فضائیہ کے متعدد لڑاکا طیارے تباہ اور پائلٹس زخمی ہوگئے۔
’آپریشن بنیان مرصوص‘ کے دوران پاک فضائیہ کی جوابی کارروائی میں بھارتی فضائیہ کے متعدد لڑاکا طیارے مختلف علاقوں میں گر کر تباہ ہوئے، ان تباہ ہونے والے بھارتی فضائیہ کے طیاروں کے پائلٹس زخمی یا لاپتہ بھی ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں پاک فضائیہ کو بھارت کے مقابلے میں 0-6 سے کامیابی ملی، ایئر وائس مارشل اورنگزیب احمد
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ایک بھارتی طیارہ اننت ناگ کے علاقے میں گر کر تباہ ہوا، جس کے پائلٹ کی ہلاکت کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، تباہ ہونے والے بھارتی طیارے کی ایجکیشن سیٹ پہی گاڈول کوکرناگ کے علاقے سے برآمد ہوئی۔
سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ بھارتی فضائیہ کا دوسرا طیارہ پامپور یا پلوامہ کے علاقے میں گر کر تباہ ہوا جس کے دونوں پائلٹس شدید زخمی حالت میں سرینگر اسپتال منتقل کیے گئے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ایک اور لڑاکا طیارہ پنتھیال، رامسو، ضلع رام بن کے علاقے میں گر کر تباہ ہوا، اس طیارے کے پائلٹ فلائنگ آفیسر اقبال سنگھ کو زخمی حالت میں آرمی اسپتال ادھم پور منتقل کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق ایک اور طیارہ بھردہ کلاں تحصیل اکھنور کے زرعی کھیتوں میں گرا، اس حادثے میں ایجکیٹ کرنے والے دونوں پائلٹس زخمی ہوئے جنہیں اکھنور کے فوجی اسپتال منتقل کردیا گیا۔
سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ بھارتی فضائیہ کا ایک طیارہ بھٹنڈہ کے علاقے میں بھی تباہ ہوا، بھارت کا ایک ہیرون ریموٹ پائلٹڈ وہیکل (Heron RPV) جموں شہر کے مشرق میں 13 ناٹیکل میل کے فاصلے پر مار گرایا گیا۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سلسلہ وار تباہی بھارتی فضائیہ کے لیے شدید دھچکا ثابت ہوئی، آپریشن ’بنیان مرصوص‘ بھارتی فضائیہ کی مکمل ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں پاک فضائیہ نے بھارتی رافیل مار گرایا، انڈین ایئر مارشل کا ڈھکا چھپا اعتراف
دفاعی ماہرین کے مطابق بھارتی فضائیہ کے طیارروں کا کھلونوں کی طرح تباہ ہونا ان کی عسکری حکمت عملی پر اہم سوالات اٹھا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بھارتی فضائیہ پاک فضائیہ دشمن کو دھول چٹا دی نقصان کی تفصیل وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارتی فضائیہ پاک فضائیہ دشمن کو دھول چٹا دی نقصان کی تفصیل وی نیوز بھارتی فضائیہ کے سیکیورٹی ذرائع میں گر کر تباہ کے علاقے میں پاک فضائیہ کے مطابق تباہ ہوا
پڑھیں:
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے ایک بار پھر فاضل چینی کی فوری برآمد کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ اضافی چینی بیرون ملک فروخت کرنے سے ملک کو قریباً 50 کروڑ ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔
ماہرین اور صارفین کے حلقوں میں اس مطالبے پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ برس بھی چینی کی برآمد کی اجازت کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں 50 سے 60 روپے فی کلو کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔
مزید پڑھیں: فاضل چینی برآمد کرنے کی اجازت دی جائے، ملک کو 50 کروڑ ڈالر زرمبادلہ مل سکتا ہے: شوگر ملز ایسوسی ایشن
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری ذکا اشرف نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ارسال کیے گئے خط میں کہا ہے کہ 26-2025 کے کرشنگ سیزن کے اختتام پر ملک میں چینی کے مجموعی ذخائر 79 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ ملک کی سالانہ ضرورت قریباً 66 لاکھ میٹرک ٹن ہے، اس طرح ملک میں 13 لاکھ میٹرک ٹن چینی سرپلس موجود ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق ایک ماہ کا تزویراتی ذخیرہ محفوظ رکھنے کے باوجود قریباً 7 لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن چینی اضافی رہے گی، جسے برآمد کرکے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ فروخت نہ ہونے والے ذخائر کی وجہ سے شوگر ملوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے جبکہ گنے کے کاشتکاروں کی ادائیگیوں اور بینک قرضوں کی واپسی میں بھی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔
پی ایس ایم اے کا کہنا ہے کہ گزشتہ 2 برسوں کے دوران گنے کے کاشتکاروں کو بہتر نرخوں پر ادائیگی کی گئی جس کے باعث گنے کی کاشت اور فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔
ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ سیزن میں مزید ریکارڈ گنے کی فصل پیدا ہونے کا امکان ہے جس کے نتیجے میں قریباً 20 لاکھ میٹرک ٹن اضافی چینی مارکیٹ میں آ سکتی ہے۔
دوسری جانب صارفین اور معاشی ماہرین شوگر ملز کے اس مؤقف کو تنقیدی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران بھی حکومت نے چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی اور اس وقت حکومتی اور صنعتی حلقوں کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ برآمدات سے مقامی مارکیٹ میں قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور چینی کی دستیابی برقرار رہے گی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 25-2024 کے دوران 67 شوگر ملوں نے مجموعی طور پر 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد کی جس سے قریباً 40 کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا۔ تاہم برآمدات کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق 2 ماہ قبل پرچون سطح پر چینی کی قیمت قریباً 140 روپے فی کلو تھی جبکہ تھوک مارکیٹ میں 50 کلوگرام کا تھیلا قریباً 6 ہزار 200 روپے میں فروخت ہو رہا تھا۔
موجودہ صورتحال میں پرچون قیمت 190 سے 200 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے جبکہ 50 کلوگرام کے تھیلے کی قیمت بڑھ کر 9 ہزار 100 روپے تک جا پہنچی ہے۔
قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کے بعد گزشتہ سال حکومت نے ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائیوں کا اعلان بھی کیا تھا۔
تاہم صارفین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے باوجود مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں کو مؤثر طور پر کنٹرول نہیں کیا جا سکا۔
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ چینی کو ذخیرہ کرنے کی مدت قریباً 2 سال ہوتی ہے اور اگر گزشتہ سال 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد نہ کی جاتی تو اس کے ضائع ہونے کا خدشہ تھا۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک جانب اضافی ذخائر کا دعویٰ کیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب برآمدات کے فوراً بعد مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ سامنے آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے برآمدی پالیسی پر سوالات جنم لیتے ہیں۔
مزید پڑھیں: چینی کی قیمتوں میں اضافہ: کس شوگر مل کے پاس کتنی چینی اسٹاک ہے؟
اب جبکہ شوگر ملز ایسوسی ایشن نے ایک مرتبہ پھر چینی برآمد کرنے کی اجازت مانگی ہے، حکومت کو ایک ایسے فیصلے کا سامنا ہے جس میں ایک طرف زرمبادلہ کمانے کا امکان موجود ہے تو دوسری طرف عوام کو سستی چینی کی فراہمی اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر برآمدات کی اجازت دی جاتی ہے تو حکومت کو سخت نگرانی، شفاف اسٹاک آڈٹ اور قیمتوں کے مؤثر کنٹرول کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ گزشتہ سال کی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں