عشرہ محرم الحرام کی مجلس عزا سے خطاب کرتے ہوئے خطیب پاکستان نے کہا کہ اصلاح صرف تنقید کا نام نہیں بلکہ اس کے لیے قربانی، بصیرت اور عمل درکار ہوتا ہے، امام حسینؑ نے مدینہ سے مکہ اور پھر مکہ سے کوفہ اور آخر کار کربلا تک کا سفر اسی مقصد کے لیے طے کیا کہ لوگوں کو سچائی کا شعور دیا جائے اور ظالم نظام کے خلاف بیداری پیدا کی جائے۔ اسلام ٹائمز۔ خطیب پاکستان علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا ہے کہ جو معاشرہ دینی اصولوں سے دور ہو جائے اس کے جسم میں فساد جڑ پکڑ لیتا ہے، انسانی تعلقات، سماجی روابط اور حاکم و ملت کے درمیان تعلقات صراطِ مستقیم سے منحرف ہو جاتے ہیں، بے راہ روی، ظلم کا فروغ، مال و دولت کی حکمرانی، مسلمانوں کے بیت المال کی بربادی، بیجا طور پر مسلمانوں کی جان،مال اور زندگی پر حملے اور عدل و امن کا فقدان یہ سب اجتماعی فساد کی جھلکیاں ہیں۔ نشتر پارک میں مرکزی عشرہ محرم الحرام کی پانچویں مجلس عزا سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ فساد کے ازالے کا راستہ یہ ہے کہ اصلاحی اقدامات کیے جائیں، ذمہ داروں کو عادلانہ رویّے قانون پر سختی سے عمل اور کتاب و سنت کے مطابق چلنے پر آمادہ کیا جائے، امام حسینؑ خود اسی اصلاحی مشن پر کاربند تھے وہ بگڑی ہوئی صورتحال پر خاموش نہ رہتے تھے اور سچ کو چھپانے کے لیے خاموشی اختیار نہیں کرتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ امام حسینؑ نے اپنے ایک بیان میں اسی اصلاحی ہدف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے قیام کی بنیاد امتِ رسولؐ کی اصلاح کو قرار دیا ہے جب یزید جیسا فاسق و فاجر شخص مسندِ خلافت پر بیٹھا تو اسلامی حکومت کی بنیادیں ہلنے لگیں، شراب، ظلم، بیت المال کی لوٹ مار اور حدودِ الٰہی کی پامالی عام ہونے لگی، امام حسینؑ نے اس انحراف کو نظرانداز نہ کیا بلکہ اس کے خلاف عملی اقدام کا فیصلہ کیا، اصلاح صرف تنقید کا نام نہیں بلکہ اس کے لیے قربانی، بصیرت اور عمل درکار ہوتا ہے، امام حسینؑ نے مدینہ سے مکہ اور پھر مکہ سے کوفہ اور آخر کار کربلا تک کا سفر اسی مقصد کے لیے طے کیا کہ لوگوں کو سچائی کا شعور دیا جائے اور ظالم نظام کے خلاف بیداری پیدا کی جائے، کربلا میں امام حسینؑ نے اپنے عزیز ترین رفقاء، اہلِ بیت اور اپنے نونہالوں کو قربان کر دیا مگر باطل کے سامنے سر نہ جھکایا، یہ قربانی ایک ایسا پیغامِ اصلاح ہے جو رہتی دنیا تک امت کو خوابِ غفلت سے جگاتا رہے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا

اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان