سندھ بلڈنگ کا نظام بے ضابطگیوں کی بھینٹ چڑھ گیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
آصف شیخ امتیاز شیخ کی سرپرستی میں خلاف قانون تعمیرات جاری ڈائریکٹر جنرل کی خاموشی
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2پلاٹ نمبر بی 132، سی 894پرخلاف قواعد تعمیرات کو تحفظ فراہم
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا نظام ناقص انتظام، بے ضابطگیوں اور انتظامیہ کی مبینہ سرپرستی میں ڈھیر ہوتا نظر آ رہا ہے ۔ ادارے کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کے خلاف اسسٹنٹ ڈائریکٹر آصف شیخ کے روا رکھے گئے نازیبا اور گستاخانہ رویے کے باوجود کوئی کارروائی نہ ہونا ادارے کے داخلی کنٹرول اور نظم و ضبط کے مکمل زوال کاغماز ہے ۔جرأت سروے ٹیم کو حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق، ایس بی سی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر آصف شیخ نے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے اور انتظامیہ کے خلاف بڑھ چڑھ کر منفی مہم چلائی۔حیرت انگیز امر یہ ہے کہ اتنا سنگین انکشاف سامنے آنے کے باوجود ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو یا اتھارٹی کی جانب سے اب تک کوئی کارروائی نظر نہیں آئی،جس سے ادارے میں لاٹھی کے زور پر چلنے والے کلچر اور اعلیٰ افسران کے خوف کی تصدیق ہوتی ہے ۔دوسری طرف، ایس بی سی اے کے دائرہ اختیار میں آنے والے کراچی کے معروف علاقے پی ای سی ایچ ایس (بلاک 2) میں پلاٹ نمبر بی 132 اور سی 894 پر خلاف ضابطہ و بلا منظورشدہ منصوبوں کی تعمیر کھلم کھلا جاری ہے ۔ مقامی رہائشیوں اور ذرائع کا اصرار ہے کہ ان غیرقانونی تعمیرات کو انتظامیہ کی سرپرستی حاصل ہے ،جس کی وجہ سے ایس بی سی اے کے فیلڈ افسران ان خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائی کرنے سے قاصر ہیں۔یہ صورتحال نہ صرف شہریوں کی جان و مال کے لیے شدید خطرہ ہے بلکہ شہر کے ماسٹر پلان اور تعمیراتی ضوابط کو بھی بے وقعت بنا رہی ہے ۔اس صورت حال نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی افادیت، شفافیت اور غیرجانبداری پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ عوام کے ذہنوں میں یہ سوال گردش کر رہے ہیں کہ آیا ادارہ اپنے بنیادی فرائض انجام دینے کے بجائے ذاتی مفادات، دباؤ اور اندرونی بے ضابطگیوں کا شکار ہو چکا ہے ؟ ڈائریکٹر جنرل کا ایک ماتحت افسر کے گستاخانہ رویے کے خلاف خاموشی اور پی ای سی ایچ ایس جیسے علاقے میں غیرقانونی تعمیرات پر آنکھیں بند کرنا ادارے کی کارکردگی پر واضح طور پر انگلی اٹھاتا ہے ۔شہری حقوق کے حلقوں اور سماجی کارکنوں کا مطالبہ ہے کہ سندھ حکومت فوری طور پر ایس بی سی اے کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کے خلاف عدم کارروائی اور پی ای سی ایچ ایس میں جاری غیرقانونی تعمیرات کی سرپرستی کے سنگین الزامات کی آزادانہ تحقیقات کا حکم دے ۔ ساتھ ہی ادارے میں فوری اصلاحات نافذ کرتے ہوئے اسے سیاسی و انتظامی دباؤ سے آزاد کرایا جائے ، تاکہ یہ اپنے قوانین کے مطابق شہر میں تعمیراتی ضوابط کا مؤثر نفاذ یقینی بنا سکے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: پی ای سی ایچ ایس ایس بی سی اے کے کے خلاف
پڑھیں:
نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔
پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔
گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔
گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟
پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔
بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔
سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔