Islam Times:
2026-07-24@01:33:49 GMT

پیپرا اور گلگت بلتستان کے مابین معاہمتی یادداشت پر دستخط

اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT

پیپرا اور گلگت بلتستان کے مابین معاہمتی یادداشت پر دستخط

وفاقی پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر حسنات احمد قریشی نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے گلگت بلتستان میں EPADS کے نفاذ کے لیے مکمل تعاون اور تکنیکی معاونت کی یقین دہانی کرائی۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) اور گلگت بلتستان پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی(GBPPRA) کے مابین گلگت بلتستان میں ای پاکستان ایکوزیشن اینڈ ڈسپوزل سسٹم (EPADS)کے نفاذ کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیئے گئے۔ ایم او یو پر گلگت بلتستان پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر و سیکریٹری فنانس نجیب عالم اور EPADS کے پراجیکٹ ڈائریکٹر شیخ افضال رضا نے دستخط کیے۔ تقریب میں چیف سیکریٹری گلگت بلتستان ابرار احمد مرزا اور وفاقی پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر حسنات احمد قریشی نے شرکت کی۔ چیف سیکریٹری گلگت بلتستان نے اس موقع پر EPADS کے نفاذ کو گلگت بلتستان میں پبلک پروکیورمنٹ اصلاحات کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس جدید ڈیجیٹل نظام کے ذریعے سرکاری خریداری کے عمل کو شفاف، مؤثر اور جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے گا۔ انہوں نے وفاقی پی پی آر اے سے قریبی تعاون اور مسلسل تکنیکی معاونت کی فراہمی کی درخواست کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ باہمی اشتراک کے ذریعے گلگت بلتستان میں ای۔پروکیورمنٹ نظام کے مؤثر اور پائیدار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے گا۔

وفاقی پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر حسنات احمد قریشی نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے گلگت بلتستان میں EPADS کے نفاذ کے لیے مکمل تعاون اور تکنیکی معاونت کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ یہ نظام شفافیت، مسابقت اور احتساب کو فروغ دینے کے ساتھ بدعنوانی کے امکانات میں کمی اور عوامی وسائل کے مؤثر استعمال میں مددگار ثابت ہو گا۔ اس یادداشت کے تحت دونوں اداروں نے گلگت بلتستان میں EPADS کے نفاذ کے عمل کے باقاعدہ آغاز پر اتفاق کیا۔ پہلے مرحلے میں گلگت بلتستان کے مختلف سرکاری اداروں کے افسران اور متعلقہ ٹیموں کو جامع تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ نظام کے عملی نفاذ کے دوران کسی قسم کی تکنیکی یا انتظامی مشکلات کا سامنا نہ ہو۔ تقریب کے اختتام پر منیجنگ ڈائریکٹر پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی حسنات احمد قریشی نے چیف سیکریٹری گلگت بلتستان ابرار احمد مرزا کو یادگاری شیلڈ پیش کی۔ یہ مفاہمتی یادداشت گلگت بلتستان میں جدید ای پروکیورمنٹ نظام کے قیام کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، جس کے ذریعے سرکاری خریداری کے تمام مراحل کو مکمل طور پر ڈیجیٹل، شفاف اور قابلِ نگرانی بنایا جا سکے گا، اورگڈ گورننس و شفاف طرزِ حکمرانی کے فروغ میں معاونت حاصل ہو گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: حسنات احمد قریشی نے گلگت بلتستان میں EPADS کے نفاذ کے نظام کے

پڑھیں:

مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ

ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔

یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔

تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔

اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔

تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔


 

متعلقہ مضامین

  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ