سمندری جہازوں کوقبضے میں لینا میری ٹائم قوانین کی خلاف ورزی، روس کا امریکی کارروائی پر ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
روس نے امریکا پر بین الاقوامی سمندری قوانین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ شمالی بحرِ اوقیانوس میں امریکی بحریہ کی جانب سے روسی پرچم بردار آئل ٹینکر مارینیرا پر چڑھائی کے بعد اس جہاز سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔
روسی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق امریکی افواج کی جانب سے ٹینکر کو قبضے میں لینا سمندری قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ وزارت نے اپنے بیان میں کہا کہ 1982 کے اقوامِ متحدہ کنونشن برائے قانونِ سمندر کے تحت کھلے سمندروں میں جہاز رانی کی آزادی حاصل ہے اور کسی بھی ریاست کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی دوسری ریاست کے دائرہ اختیار میں رجسٹرڈ جہاز کے خلاف طاقت کا استعمال کرے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا کی بحر اطلس میں کارروائی، وینزویلا سے منسلک 2 روسی تیل بردار جہازوں پر قبضہ
ادھر روسی وزارتِ خارجہ نے بھی اس معاملے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکی افواج کی جانب سے مارینیرا ٹینکر پر چڑھائی کی اطلاعات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ روس نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ جہاز پر موجود تمام روسی شہریوں کے ساتھ انسانی سلوک کیا جائے اور ان کی وطن واپسی میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔ یہ بیان روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی تاس (TASS) کے حوالے سے جاری کیا گیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکا کو روسی شہریوں کی جلد اور محفوظ واپسی کو یقینی بنانا چاہیے۔
واضح رہے کہ ‘ڈارک فلیٹ’ کی اصطلاح ان آئل ٹینکروں کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو پابندیوں اور نگرانی سے بچنے کے لیے اپنی شناخت یا نقل و حرکت چھپاتے ہیں۔ عالمی قوانین کے تحت تمام تجارتی جہازوں کا کسی نہ کسی ملک میں رجسٹرڈ ہونا لازمی ہوتا ہے تاکہ حفاظتی اور ماحولیاتی ضوابط پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیے: روس، چین، ایران اور کیوبا کے ساتھ اقتصادی تعلقات ختم کرو، امریکا کا وینزویلا سے سخت مطالبہ
وینزویلا کی تیل برآمدات کے تناظر میں بعض پابندیوں کی زد میں آئے ٹینکر امریکی پابندیوں اور ناکہ بندی سے بچنے کے لیے ‘ڈارک موڈ’ میں سفر کرتے رہے ہیں۔ اس طریقہ کار میں مقام کے بارے میں غلط معلومات دینا، جعلی یا تبدیل شدہ پرچم استعمال کرنا اور دیگر حربے شامل ہیں، جن کے ذریعے پابندیوں کے باوجود خریداروں تک تیل پہنچایا جاتا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
تیل جہاز روس سمندر وینزویلا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: تیل جہاز وینزویلا کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔
مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔
آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔
کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔
کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔
تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔