وزیر داخلہ محسن نقوی کی عمانی ہم منصب سے ملاقات، پاک بھارت کشیدگی پر بات چیت
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیرداخلہ محسن نقوی نے عمانی ہم منصب سے ملاقات کی اور پاک بھارت حالیہ کشیدگی کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف سے آگاہ کیا۔تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی مسقط میں عمان کی وزارت داخلہ آمد ہوئی جہاں اُن کا عمانی ہم منصب سید حمود بن فیصل البوسیدی نے پرتپاک استقبال کیا۔وزیرداخلہ محسن نقوی کی اپنے عمانی ہم منصب سید حمود بن فیصل البوسیدی سے ملاقات کی جس میں خطے کی موجودہ صورت حال پر بات چیت ہوئی۔
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے عمانی وزیر داخلہ کو پاک بھارت حالیہ کشیدگی کے حوالے سے پاکستان کے اصولی موقف سے آگاہ کیا۔ عمانی ہم منصب سے گفتگو میں محسن نقوی نے کہا کہ بھارت کی جانب سے بلیم گیم سے کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان کا موقف بہت واضح ہے جنگ مسلط کی گئی تو بھرپور جواب دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پر امن ملک ہے اور ہم خطے میں پائیدار امن کے خواہاں ہیں۔ بین الاقوامی تنازعات کے حل کیلئے عمان کا کلیدی کردار قابل تعریف ہے۔ ملاقات کے دوران پاکستانیوں کو درپیش ویزا کے حصول میں مسائل، انسداد منشیات و انسداد سمگلنگ پولیس ٹرینگ، کوسٹل گارڈز حوالے سے تعاون کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
بھارتی فضائیہ کے سربراہ کی مودی سے ملاقات، حملے کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں: عطا تارڑ
ملاقات میں دو طرفہ تعاون کو فروغ دینے کیلئے کوآرڈینیشن بہتر بنانے جبکہ اسلام آباد اور مسقط کو سسٹر سٹیز قرار دینے پر اصولی اتفاق ہوا۔وزیرداخلہ محسن نقوی نے عید پر پاکستانی قیدیوں کے لئے معافی پر عمان کے سطان کا شکریہ اداکیا۔ملاقات کے دوران عمان کی جیلوں میں قید پاکستانیوں کی وطن واپسی کے لیے باہمی اشتراک کار بڑھانے پر بات چیت بھی ہوئی۔ محسن نقوی نے کہا کہ عمان اور پاکستان مشترکہ اقدار رکھتے ہیں۔ ہم بھائی بھی ہیں اور ہمسائے بھی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاک عمان تعاون کو نئی بلندیوں تک لے کر جائیں گے جبکہ عمان کے ساتھ اشتراک کار بڑھانے کے لئے اقدامات دنوں میں نظر آئیں گے۔ عمانی وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان اور عمان انتہائی برادرانہ و تاریخی رشتے میں بندھے ہوئے ہیں۔
خیرپور میں 2 گروپوں میں تنازع، مخالف قبیلے نے شہری سے 15 لاکھ روپے لوٹ لئے
ملاقات میں عمان کی وزارت داخلہ کے اعلی حکام اور پاکستانی سفیر سید نوید صفدر بخاری بھی اس موقع پر موجود تھے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: وزیرداخلہ محسن نقوی داخلہ محسن نقوی محسن نقوی نے سے ملاقات نے کہا کہ
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔