بھارتی فضائیہ کے سربراہ کی مودی سے ملاقات، حملے کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں: عطا تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
نئی دہلی(ڈیلی پاکستان آن لائن )مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں حملے کے بعد پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے اتوار کے روز ہندوستانی فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل امرپریت سنگھ کی ملاقات ہوئی، جو تقریباً 40 منٹ جاری رہی۔
روز نامہ امت نے بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے حوالے سے بتایا کہ اگرچہ اس ملاقات کا کوئی سرکاری اعلامیہ میڈیا کے سامنے پیش نہیں کیا گیا تاہم اس ملاقات کو 22 اپریل کو پہلگام میں ہونے والے حملے کے سلسلے میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس سے قبل 30 اپریل کو انڈین نیوی کے سربراہ جنرل اوپندر دیویدی نے وزیراعظم مودی سے ملاقات کی تھی، جس میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول بھی شریک ہوئے تھے۔ اسی طرح 3 مئی کو بحریہ کے سربراہ ایڈمرل دنیش ترپاٹھی نے وزیراعظم کے ساتھ ایک گھنٹہ طویل مشاورت کی تھی، جس میں بحریہ کی تیاریوں اور موجودہ صورتِ حال پر تفصیلی گفتگو ہوئی تھی۔
دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ جو آج (اتوار) ڈائیریکٹر جنرل آئی ایس پی آر جنرل احمد شریف کے ساتھ تمام سیاسی جماعتوں کے سرکردہ رہنماﺅں کو موجودہ قومی سلامتی کی صورتحال کے تناظر میں بریفنگ دیں گے، انہوں نے کہا کہ بھارت ایک مکار دشمن ہے جس کی طرف سے ابھی حملے کا خطرہ ٹلا نہیں ہے۔
اس سے قبل وفاقی وزیر اطلاعات نے بھارت کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر جارحیت جاری رہی تو پاکستان بھرپور جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ پہلگام واقعے میں ہمارے ہاتھ صاف ہیں، بھارت الزامات کے بجائے حقائق کی بنیاد پر بات کرے۔
خیرپور میں 2 گروپوں میں تنازع، مخالف قبیلے نے شہری سے 15 لاکھ روپے لوٹ لئے
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کے سربراہ
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔