پاکستان پر حملے افغان طالبان کی سہولت کاری کے بغیر ممکن نہیں،وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا ہے جنگ میں شکست کے بعد بھارت اب پراکسی وار کے ذریعے پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔پاکستان نے افغانستان کو دہشتگردی سے متعلق ٹھوس ثبوت بھی فراہم کیے ہیں، دورانِ جنگ پوسٹیں چھوڑ کر بھاگنے والوں نے سفید جھنڈے لہرائے تھے اور اب وہی عناصر بیرونی مدد کے ساتھ دوبارہ سرگرم ہو رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا بھارت اور افغانستان کا مکروہ چہرہ دیکھ رہی ہے اور پاکستان نے مذاکرات میں دہشتگردی کے تمام ثبوت پیش کیے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز ایسے فتنوں سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں اور دہشتگردوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔شکست دہشتگردوں کا مقدر ہوگی اور پاکستان کی قیادت ہر حال میں دہشتگردوں کو شکست دینے کے عزم پر قائم ہے۔
اسلام آباد میں خود کش حملے کے پیچھے افغانستان کا ہاتھ، اہم شواہد سامنے آگئے
عطا تارڑ نے مزید کہا کہ ریاست پاکستان اپنے شہریوں کا تحفظ کرنا جانتی ہے اور اس کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے تاکہ ملک کی ترقی و خوشحالی کے لیے حالات درست رہیں۔
” بھارت سے پاکستان کی ترقی ہضم نہیں ہو رہی “
پاکستان اب کیا کرے گا ؟ عطا تارڑ نے بتا دیا pic.
مزید :
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: عطا تارڑ
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔
وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔
تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔
اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔
جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔
جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں