بھارت کشیدگی بڑھانے کے بجائے پاکستان سے بات چیت کرے: روس کا دوٹوک مؤقف
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
ماسکو(نیوز ڈیسک) روس نے ایک بار پھر زور دیا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کو دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لارؤف نے اپنے بھارتی ہم منصب ایس جے شنکر سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور کہا کہ شملہ معاہدہ اور لاہور ایگریمنٹ کی روشنی میں دونوں ممالک کو سفارتی راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ماسکو امن کا حامی ہے اور خطے میں استحکام کیلئے ضروری ہے کہ بھارت کشیدگی کو بڑھانے کے بجائے بات چیت کو ترجیح دے۔
یاد رہے کہ 22 اپریل کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں فائرنگ سے 27 افراد ہلاک ہوگئے تھے، بھارت نے واقعے کا الزام بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر لگایا اور سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کر دیا۔
پاکستان نے اس واقعے کی نہ صرف مذمت کی بلکہ وزیراعظم شہباز شریف نے بھارت کو غیر جانبدارانہ تحقیقات میں مکمل تعاون کی پیشکش بھی کی۔
دوسری جانب، بھارت کی جانب سے پاکستان کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، تاہم پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت واضح کر چکی ہے کہ اگر بھارت نے کوئی مہم جوئی کی تو اسے ایسا منہ توڑ جواب دیا جائے گا جو وہ کبھی نہ بھول سکے گا۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔