سعودیہ سے اقتصادی شراکت داری
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
پاکستان اور سعودی عرب میں طویل مدتی اقتصادی شراکت داری کا معاہدہ طے پا گیا، سی پیک منصوبوں میں بھی اقتصادی شراکت داری معاہدے کا حصہ ہوگی۔ معاہدے پر دستخط وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان ملاقات کے دوران کیے گئے۔ سعودی عرب ڈیمز، ٹرانسمیشن لائنز اور دیگر منصوبوں میں سرمایہ کاری کرے گا، جب کہ نجی شعبوں کی آپس مین بزنس کونسل بھی تشکیل دی جائے گی۔
پاکستان اور سعودی عرب نے اپنے تاریخی برادرانہ تعلقات کو مستقل معاشی شراکت داری میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے نجی شعبے کے اشتراک، علاقائی استحکام اور تجارتی و سرمایہ کاری تعلقات کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔ بلاشبہ پاک سعودی تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔
یہ محض ایک ریاستی تعلق نہیں بلکہ ایک ایسا رشتہ ہے جس کی جڑیں عوام کے دلوں میں پیوست ہیں۔ وزیر اعظم پاکستان کے حالیہ دورہ سعودی عرب میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات ایک نئے دور کی شروعات ہے۔ سعودی قیادت نے پاکستان کو سرمایہ کاری کے بڑے مواقع فراہم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ خاص طور پرگوادر اور سی پیک منصوبوں میں سعودی شمولیت نہ صرف پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند ہوگی بلکہ خطے میں سعودی اثر و رسوخ کو بھی بڑھائے گی۔
پاکستان کی زرخیز زرعی زمین، افرادی قوت، معدنی وسائل، متحرک آئی ٹی سیکٹر اور شمسی ہائیڈرو اور ونڈ جیسی قابل تجدید توانائی کے ساتھ ساتھ ملک میں کان کنی کے شعبے میں بالخصوص تانبا، سونا اور دوسری قیمتی معدنیات سے فوائد حاصل کرنے کے بہت زیادہ مواقع پائے جاتے ہیں، جن سے ابھی تک استفادہ نہیں کیا گیا ہے۔
دونوں ملکوں کو دستیاب وافر مواقعوں سے فائدہ اٹھانا چاہیے کیونکہ ولی عہد محمد بن سلمان کے وژن 2030 کے تحت پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کیے گئے ہیں جن میں پاکستانی کارکنان کی سعودی عرب میں جاری بڑے منصوبوں پر ملازمت بھی شامل ہے۔ سعودی عرب نے قرض اور خام تیل کی قیمت کی مؤخر ادائیگی کے ذریعے ہمیشہ پاکستان کی معیشت کو سہارا دیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات ہر دور اور ہر زمانے میں مضبوط رہے ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی تعاون کی بھی ایک لمبی تاریخ ہے۔ دفاعی اور اسٹرٹیجک تعلقات کے حوالے سے پاک فوج اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون بھی کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ سعودی افواج کی تربیت، مشترکہ مشقیں اور سیکیورٹی کے مختلف شعبوں میں تعاون ہمیشہ جاری رہا ہے۔ خطے کے بدلتے حالات میں یہ تعاون مزید اہمیت اختیار کر رہا ہے۔
عالمی سیاست میں ملکوں کے باہمی تعلقات مفادات کے گرد گھومتے ہیں اگرچہ اس میں کسی ملک کو بھی استثنا حاصل نہیں ہے مگر مسلم دنیا میں سعودی عرب کو جو خصوصی مقام حاصل ہے اس کی بدولت پاکستان سمیت مسلم ممالک کے عوام، سعودی عرب کے ساتھ جذباتی لگاؤ، محبت و احترام کا تعلق رکھتے ہیں۔
اس فیکٹر کی بنیاد پر پاک سعودی باہمی تعلقات بین الاقوامی سیاست کی حرکیات سے بہت حد تک مبرا ہیں اور وقت کی اونچ نیچ دونوں برادر ملکوں کے قریبی تعلقات میں دراڑ نہیں ڈال سکی۔پاکستان، سعودی عرب کو اپنا اسٹرٹیجک اتحادی سمجھتا ہے ۔ دونوں فریقوں نے issues strategic پر اپنی پالیسیوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی اور دونوں ممالک موجودہ اسٹرٹیجک تعاون اور دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے لیے ایک جامع اور ٹھوس لائحہ عمل پر عمل پیرا نظر آتے ہیں۔
سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات نہ صرف سیاسی و اقتصادی بلکہ مذہبی اور سیکیورٹی پہلوؤں سے بھی اسٹرٹیجک ہیں۔ دونوں ملکوں کی قیادت ایک ایسے معاہدے پر دستخط کرچکی ہے، جس کے تحت کسی ایک پر حملہ دوسرے پر حملہ تصورکیا جائے گا۔ مشترکہ اسٹریٹجک مشترکہ دفاعی معاہدہ اس بات کا عندیہ دیتا ہے کہ یہ ایٹمی اور میزائل دفاعی نظام کو بھی شامل کر سکتا ہے، پاکستان ہمیشہ اپنی ایٹمی اور میزائل پروگرام کو ’’ اسٹرٹیجک اثاثے‘‘ کہتا رہا ہے۔اقتصادی شراکت داری کا ایک اور اہم پہلو سرمایہ کاری ہے۔
حالیہ برسوں میں سعودی عرب نے پاکستان میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی دلچسپی ظاہر کی ہے۔ توانائی، معدنیات، زراعت، ریفائنری اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبے سعودی سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش ہیں۔ پاکستان کے خصوصی اقتصادی زونز (SEZs) اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے منصوبے سعودی سرمایہ کاروں کو جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے بازاروں تک رسائی کے نئے مواقع فراہم کر سکتے ہیں، اگر پاکستان سعودی سرمایہ کاری کے لیے ایک محفوظ، شفاف اور پائیدار ماحول فراہم کرنے میں کامیاب ہو جائے تو یہ سرمایہ کاری نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا کرے گی بلکہ معیشت کی مجموعی کارکردگی میں نمایاں بہتری لائے گی۔علاقائی تناظر میں بھی پاکستان اور سعودی عرب کی اقتصادی شراکت داری کے اثرات دور رس ہو سکتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے اقتصادی تعاون ایک کلیدی عنصر کے طور پر ابھر رہا ہے۔ سعودی عرب کی قیادت میں خلیجی ممالک جس تیزی سے جدید اقتصادی ماڈل کی طرف بڑھ رہے ہیں، وہاں پاکستان کا کردار ایک پل کی مانند ہو سکتا ہے جو مشرقِ وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کو جوڑنے کا کام کرے۔ پاکستان کی جغرافیائی پوزیشن اسے توانائی، تجارت اور نقل و حمل کے لیے ایک قدرتی راہداری بناتی ہے۔ اگر سعودی سرمایہ کاری کے ذریعے اس انفرااسٹرکچر کو مزید بہتر بنایا جائے تو دونوں ممالک کے لیے نہ صرف دوطرفہ بلکہ علاقائی سطح پر بھی بے پناہ فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔اس اقتصادی شراکت داری کے فروغ میں کچھ چیلنجز بھی موجود ہیں۔ پاکستان کو اپنی معاشی پالیسیوں میں تسلسل، شفافیت اور استحکام لانے کی ضرورت ہے ۔
قانونی اور انتظامی رکاوٹوں کو کم کر کے سرمایہ کاری کے عمل کو آسان بنانا ہوگا۔ اقتصادی شراکت داری کے ایک اور پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اور وہ ہے ٹیکنالوجی اور علم کا تبادلہ۔ سعودی عرب تیزی سے ایک جدید، ہائی ٹیک معیشت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت، گرین انرجی اور اسمارٹ انفرا اسٹرکچر کے شعبوں میں سعودی حکومت نے بڑے اہداف مقرر کیے ہیں۔ پاکستان کے نوجوان اس ڈیجیٹل انقلاب میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں اگر حکومت دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی تعاون کے فروغ کے لیے ایک مربوط حکمت عملی تیار کرے۔ سعودی عرب کی یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں کے ساتھ اشتراک، پاکستانی طلبہ کے لیے تعلیمی اسکالرشپ، اور مشترکہ تحقیقی منصوبے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید گہرا کر سکتے ہیں۔
پاکستان کے لیے سعودی عرب کے ساتھ اقتصادی شراکت داری کا ایک اور فائدہ سفارتی اور تزویراتی سطح پر بھی ہے۔ سعودی عرب عالمی توانائی مارکیٹ میں ایک فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے اور اس کے ساتھ مضبوط تعلقات پاکستان کو بین الاقوامی فورمز پر بھی ایک مضبوط موقف اختیار کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اسی طرح اسلامی تعاون تنظیم (OIC) اور دیگر مسلم ممالک کے فورمز پر دونوں ممالک کے ہم آہنگ موقف سے عالمِ اسلام کے مشترکہ مفادات کو تقویت ملتی ہے۔
پاکستان کی طرف سے پاکستان میں سعودی عرب کی ممکنہ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کو تیزی سے آگے بڑھانے میں زیادہ سے زیادہ تعاون اور سہولت فراہم کرانے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ دونوں ملکوں کے وفود نے اعلانات کو ٹھوس اقتصادی نتائج میں بدلنے کے لیے دو طرفہ نفاذ کے طریقہ کار کو بھی حتمی شکل دی ہے۔ درحقیقت دونوں ممالک محض جذباتی یا مذہبی رشتے تک محدود نہیں رہنا چاہتے بلکہ عملی اور معاشی بنیادوں پر تعلقات کو نئی جہت دینا چاہتے ہیں۔ معاشی و تجارتی اور دفاعی تعاون۔ سعودی عرب پاکستان کو تیل اور توانائی کے شعبے میں بڑے پروجیکٹس کی پیشکش کر رہا ہے۔ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری پاکستان کے توانائی بحران کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ زرعی شعبے میں بھی سعودی سرمایہ کار دلچسپی رکھتے ہیں۔
سعودی عرب اپنی فوڈ سیکیورٹی کے لیے پاکستان کی زرخیز زمینوں اور افرادی قوت کو بروئے کار لا سکتا ہے۔ پاکستانی محنت کش سعودی عرب کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لاکھوں پاکستانی سعودی عرب میں کام کر کے ہر سال اربوں ڈالر زرمبادلہ اپنے وطن بھیجتے ہیں۔ سی پیک میں سعودی شمولیت پاکستان کی اقتصادی راہداری کو مزید مضبوط بنا سکتی ہے۔
توانائی منصوبے سعودی سرمایہ کاری سے پاکستان کا توانائی بحران کم ہو سکتا ہے۔ زرعی شعبے میں مشترکہ منصوبے دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہوں گے۔ ٹیکنالوجی اور تعلیم کے میدان میں تعاون نئی نسل کو مواقع فراہم کرے گا۔ سعودیہ عرب کے ساتھ دیرینہ اور آزمودہ دوستی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم عنصر ہے ۔ اس تناظر میں یہ امید کی جاتی ہے کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کا حالیہ دورہ سعودی عرب، آنے والے مہینوں میں پاکستان کی اقتصادی ترقی کے امکانات میں مزید اضافہ کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان اور سعودی عرب اقتصادی شراکت داری سرمایہ کاری کے دونوں ممالک کے سعودی سرمایہ سعودی عرب کی سعودی عرب کے مواقع فراہم دونوں ملکوں عرب کے ساتھ پاکستان کے پاکستان کو پاکستان کی کے لیے ایک تعلقات کو کے درمیان سکتے ہیں فراہم کر ملکوں کے کو مزید سکتا ہے رہا ہے کو بھی اور اس
پڑھیں:
تھائی لینڈ میں غیر ملکیوں کی خفیہ کاروباری سرگرمیوں اور شیل کمپنیوں کے خلاف بڑا آپریشن
تھائی لینڈ کی حکومت نے مقامی ملکیتی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کاروبار کرنے والے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق ہزاروں کمپنیوں میں مقامی افراد کو محض کاغذی مالکان ظاہر کر کے غیر ملکیوں نے کاروباری پابندیوں سے بچنے کی کوشش کی۔ تازہ کارروائیوں کے باعث غیر ملکی سرمایہ کاروں اور جائیداد مالکان میں تشویش بڑھ گئی ہے کہ ان کے اثاثے منجمد یا ضبط کیے جا سکتے ہیں۔
حکام کے مطابق جنوبی صوبے کرابی میں ایک کمپنی سرکاری ریکارڈ میں نیل سیلون (ناخنوں کی آرائش کے مرکز) کے طور پر رجسٹرڈ تھی، تاہم تحقیقات میں معلوم ہوا کہ مبینہ طور پر اسے ایک اسرائیلی خاتون بالغ مواد پر مبنی آن لائن کاروبار چلانے کے لیے استعمال کر رہی تھی، جو سبسکرپشن ویب سائٹ اونلی فینز کے ذریعے سرگرم تھا۔
یہ کمپنی تقریباً 500 ایسی کمپنیوں میں شامل تھی جنہیں ایک ہی اکاؤنٹنگ فرم نے رجسٹر کرایا تھا۔ ان کمپنیوں میں بیوٹی سیلونز سے لے کر بھنگ (کینابس) کی فارمز تک مختلف کاروبار شامل تھے۔
تھائی حکام کا کہنا ہے کہ ان تمام کمپنیوں کا تعلق غیر ملکی افراد سے تھا جنہوں نے قانون سے بچنے کے لیے مقامی تھائی شہریوں کو اکثریتی مالک ظاہر کیا، حالانکہ ان افراد کا کاروبار میں عملی کردار نہ ہونے کے برابر تھا۔
تھائی لینڈ کے فارن بزنس ایکٹ کے تحت غیر ملکی شہری عام طور پر کسی مقامی کمپنی میں 49 فیصد سے زیادہ حصص کے مالک نہیں بن سکتے۔ اس پابندی سے بچنے کے لیے بعض غیر ملکی کاروباری افراد مقامی شہریوں کو رقم دے کر ایسے دستاویزات تیار کراتے ہیں جن میں ظاہر کیا جاتا ہے کہ کمپنی کے کم از کم 51 فیصد حصص تھائی شہریوں کی ملکیت ہیں۔
برسوں تک اس طرزِ عمل کو نظر انداز کرنے کے بعد اب حکام نے سخت مؤقف اختیار کر لیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ مقامی شراکت دار کے طور پر درج افراد اپنی حقیقی سرمایہ کاری اور ملکیت کے شواہد پیش کریں۔
حکومت نے سیاحتی علاقوں میں وسیع پیمانے پر معائنے شروع کیے ہیں اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے مختلف سرکاری ڈیٹا بیسز کا تجزیہ کیا ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں تقریباً 50 ہزار غیر ملکی روابط رکھنے والی کمپنیوں کو مزید جانچ پڑتال کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق انہیں روزانہ بڑی تعداد میں ایسے غیر ملکی سرمایہ کاروں اور جائیداد مالکان کی جانب سے رابطے موصول ہو رہے ہیں جو خدشہ رکھتے ہیں کہ اگر وہ غیر قانونی نامزد مالکان (نومنی) کے نظام میں ملوث پائے گئے تو ان کے اثاثے منجمد یا ضبط کیے جا سکتے ہیں۔
قانونی فرم لائرز فار ایکسپیٹس تھائی لینڈ کے شعبۂ بین الاقوامی امور کے جنرل منیجر برائن ریمزڈن کے مطابق تمام متاثرہ افراد کو اپنی سرمایہ کاری ضائع ہونے اور فوجداری مقدمات کا سامنا کرنے کا خوف لاحق ہے۔
انہوں نے کہا کہ اکثر افراد یہ جواز پیش کرتے ہیں کہ انہیں معلوم تھا یہ طریقہ غیر قانونی ہے، لیکن ان کے وکلا نے انہیں یقین دلایا تھا کہ اس میں کوئی مسئلہ نہیں۔
ریمزڈن کے مطابق ان کی فرم کو روزانہ 100 سے زائد فون کالز موصول ہو رہی ہیں جن میں لوگ قانونی راستہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی کمپنی عملی کاروباری سرگرمیوں میں شامل نہیں تو یہ خود ایک خطرے کی علامت ہے۔
وزیراعظم بھی متحرکتھائی وزیر اعظم انوتن چارنویراکول بھی جعلی طور پر رجسٹرڈ کمپنیوں کے خلاف مہم میں پیش پیش ہیں۔
گزشتہ ماہ جنوبی تھائی لینڈ کے معروف سیاحتی مقامات کے دورے کے دوران انہوں نے اعلان کیا کہ غیر قانونی کاروباروں اور شیل کمپنیوں کے ذریعے سرگرم جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ جنوب مشرقی ایشیا میں سائبر فراڈ کے بڑھتے ہوئے نیٹ ورکس کے تناظر میں اس معاملے کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب ایک ہی شخص سینکڑوں کمپنیوں میں حصص رکھتا ہو تو اس کا مقصد دراصل کمپنیوں کی خرید و فروخت اور غیر ملکیوں کو کاروبار کے لیے قانونی ڈھانچہ فراہم کرنا ہوتا ہے، جو قانون کی روح کے منافی ہے۔
سیاحتی جزائر خصوصی نگرانی میںتھائی وزارت تجارت کے مطابق گزشتہ ماہ کیے گئے آڈٹ میں معلوم ہوا کہ مشہور سیاحتی جزائر کوہ ساموئی اور کوہ پھانگان میں رجسٹرڈ 16 ہزار 800 قانونی اداروں میں سے تقریباً 70 فیصد میں غیر ملکیوں کی شراکت موجود ہے، تاہم وزارت نے واضح کیا کہ غیر ملکی روابط کا مطلب لازمی طور پر قانون شکنی نہیں۔
غیر ملکی مشتبہ افراد گرفتارگزشتہ ہفتے حکام نے اعلان کیا کہ صوبوں فوکٹ اور سورات تھانی میں جعلی رجسٹریشن کے ذریعے قائم کمپنیوں کی تحقیقات کے بعد 28 غیر ملکی مشتبہ افراد کے مقدمات استغاثہ کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔
اس سے قبل کوہ پھانگان میں حکام تقریباً 15 کروڑ بھات (45 لاکھ ڈالر) مالیت کی 30 اراضیوں کو ضبط کر چکے ہیں جبکہ غیر قانونی کمپنیوں سے تعلق رکھنے والے دو تھائی شہریوں کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔
مقامی کاروباری حلقوں کی شکایاتتھائی کاروباری برادری کے بعض حلقے طویل عرصے سے شکایت کرتے رہے ہیں کہ غیر ملکی سرمایہ کار ان کے لیے مسابقت مشکل بنا رہے ہیں۔
ایک معروف تھائی کاروباری شخصیت، جنہوں نے صرف اپنے عرف تھونگ سے شناخت ظاہر کرنے کی اجازت دی، کا کہنا تھا کہ بعض غیر ملکی سرمایہ کار ولاز خرید کر انہیں مختصر مدتی کرایے کی رہائش گاہوں میں تبدیل کر دیتے ہیں، جس کے بعد قیمتیں اس قدر بڑھ جاتی ہیں کہ مقامی افراد ان جائیدادوں تک رسائی نہیں رکھ پاتے۔
ان کے مطابق مکمل ملکیت غیر ملکیوں کے پاس چلے جانے سے مقامی آبادی معاشی طور پر پیچھے رہ جاتی ہے اور یہی اصل مسئلہ ہے۔
سرمایہ کاری کے ماحول پر سوالاتکریک ڈاؤن کے نتیجے میں یہ خدشات بھی پیدا ہوئے ہیں کہ بعض جائز غیر ملکی سرمایہ کار نادانستہ طور پر قانونی پیچیدگیوں کا شکار ہو سکتے ہیں، جس سے سرمایہ کاری کے لیے تھائی لینڈ کی ساکھ متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔
ملک میں کنڈومینیم ملکیت کے قوانین کے تحت کسی بھی رہائشی منصوبے کا کم از کم 51 فیصد حصہ تھائی شہریوں کے لیے مختص ہونا ضروری ہے، تاہم بنکاک، فوکٹ اور پٹایا جیسے علاقوں میں بعض اوقات پورے اپارٹمنٹ بلاکس غیر ملکی خریداروں کو فروخت کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔
آن لائن فورمز پر متعدد غیر ملکی افراد نے ایسے تجربات بیان کیے ہیں جن میں جائیداد خریدنے یا لیز پر لینے کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ متعلقہ یونٹ قانونی طور پر تھائی شہریوں کے لیے مختص تھا اور وہ اس کے حقیقی مالک نہیں بن سکتے تھے۔
پٹایا میں مقیم غیر ملکی سرمایہ کاری اور ٹیکس کے ماہر وکٹر وونگ کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کار اس وقت شدید احتیاط اور ذہنی دباؤ کی کیفیت میں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت قوانین کے نفاذ کو تو سخت کر رہی ہے لیکن ساتھ ہی قانونی سرمایہ کاری کے نئے اور واضح راستے فراہم نہیں کیے جا رہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اب سرمایہ کار غیر قانونی شارٹ کٹس کے بجائے ایسے پائیدار اور قانونی ڈھانچوں کی تلاش میں ہیں جن کے ذریعے وہ اعتماد کے ساتھ تھائی لینڈ میں کاروبار جاری رکھ سکیں۔
تاہم بعض غیر ملکی رہائشی اس کریک ڈاؤن پر تنقید کو درست نہیں سمجھتے۔ برائن ریمزڈن کے مطابق اس صورتحال کا ذمہ دار تھائی لینڈ نہیں بلکہ وہ افراد ہیں جنہوں نے جانتے بوجھتے قوانین کی خلاف ورزی کی۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی نے غیر ملکیوں کو غیر قانونی طریقے اختیار کرنے پر مجبور نہیں کیا۔ جو لوگ قواعد و ضوابط کی پابندی نہیں کرتے، مسئلہ دراصل وہی ہیں۔
ان کے بقول یہ کریک ڈاؤن طویل مدت میں تھائی لینڈ کے لیے زیادہ محفوظ اور بہتر ثابت ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
تھائی لینڈ غیرملکی سرمایہ کاری