وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ملاقات کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے، جس میں پاکستان اور سعودی عرب کا اقتصادی تعاون کا فریم ورک شروع کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔ فریم ورک کا مقصد تجارت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون کو فروغ دینا ہے۔اعلامیہ کے مطابق یہ فریم ورک دونوں ممالک کے مشترکہ اقتصادی مفادات پر مبنی ہے اور ان کی تکمیل کے لیے تجارت و سرمایہ کاری کے تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے دونوں ممالک کی باہمی خواہش کا اعادہ ہے۔اعلامیے کے مطابق توانائی، صنعت، کان کنی، آئی ٹی، سیاحت، زراعت اور غذائی تحفظ ترجیحی شعبے شامل ہیں۔ دونوں ممالک توانائی اور بجلی کی ترسیل کے منصوبوں پر بھی تعاون کر رہے ہیں۔مشترکہ اعلامیہ میں دونوں ممالک کی جانب سے نجی شعبے کے کردار کو بڑھانے اور تجارتی تبادلے میں اضافے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ فریم ورک پاک سعودی تعلقات میں نئی اقتصادی شراکت داری کی بنیاد بنے گا۔مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ فریم ورک کے تحت اقتصادی، تجارتی، سرمایہ کاری اور ترقیاتی شعبوں میں کئی اسٹریٹجک اور اعلیٰ اثرات کے حامل منصوبوں پر تبادلہ خیال ہوگا جو دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے، نجی شعبے کے اہم کردار کو بڑھانے اور تجارتی تبادلے کو بڑھانے میں معاون ثابت ہوں گے۔اس کے علاوہ مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کئی مشترکہ اقتصادی منصوبوں کے حوالے سے تعاون پر کام کر رہے ہیں، فریم ورک اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری میں پائیدار شراکت داری کے لیے مشترکہ وژن کی توثیق ہےفریم ورک باہمی برادرانہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے دونوں ممالک کے اقدامات کا عکاس ہے۔مشترکہ اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ فریم ورک دونوں ممالک کی قیادت اور برادر عوام کی امنگوں کی ترجمانی اور باہمی مفادات کے حصول کی تکمیل کی خواہش کی عکاسی کرتا ہے جب کہ دونوں ممالک کے رہنما سعودی پاکستانی سپریم کوآرڈینیشن کونسل کے اجلاس کے انعقاد کے بھی منتظر ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: دونوں ممالک کے سرمایہ کاری اور سعودی گیا ہے کے لیے

پڑھیں:

امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان

نیویارک(نیوز ڈیسک)امریکہ نے “جبری مشقت سے متعلق خدشات کے پیش نظر” پاکستان، بھارت، چین اور یورپی یونین سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے مطابق ان برآمدی محصولات (ٹیرف) کی شرح 10 فیصد سے لے کر 12.5 فیصد تک ہوگی اور یہ جمعہ یعنی آج سے نافذ العمل ہوں گے۔

Today, Ambassador Greer is taking action, at President Trump’s direction, under Section 301 of the Trade Act of 1974 by imposing tariffs on 60 trading partners for their failure to adopt and effectively enforce a prohibition on the importation of goods produced with forced labor.…

— United States Trade Representative (@USTradeRep) July 23, 2026

انہوں نے کہا کہ امریکہ میں جبری مشقت کے خلاف قوانین طویل عرصے سے نافذ ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دیگر ممالک بھی اسی طرز کے اقدامات کریں۔

یہ نئے محصولات اس عالمی ڈیوٹی کی جگہ لیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال کے آغاز میں عائد کی گئی تھی اور جس کی مدت اب ختم ہو رہی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے فروری میں بعض ٹیرف مسترد کیے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے متبادل قانونی راستوں کے ذریعے نئے اقدامات متعارف کروائے ہیں۔

امریکہ کے تجارتی نمائندوں کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا اور ملائیشیا سمیت کئی ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ڈیوٹی لاگو ہوگی۔

یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے لیے ٹیرف کی مجموعی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان رکھی گئی ہے۔

دوسری جانب متاثرہ ممالک نے ان اقدامات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا نے ان ٹیرف کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آزاد تجارتی معاہدوں کے منافی ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق اسٹیل اور ایلومینیم جیسے شعبہ جاتی ٹیرف پہلے سے نافذ ہیں اور ان پر نئے اقدامات کا اطلاق نہیں ہوگا، جبکہ توانائی اور کھاد سمیت بعض اشیا کو استثنا دیا گیا ہے۔

اسلام آباد نے بھی جبری مشقت سے متعلق تحقیقات پر امریکی حکام کو تفصیلی جوابات جمع کرائے ہیں، بلکہ حالیہ تجارتی مذاکرات سے ایک روز قبل بھی مزید وضاحتیں فراہم کی تھیں۔

مزید پڑھیں۔ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کی افتتاحی تقریب
  • پاکستانیوں کیلئے سری لنکا نے ویزا فیس ختم کر دی
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر