وزیرِ اعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد کے درمیان ملاقات کا مشترکہ اعلامیہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)ولی عہد و وزیرِ اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور وزیرِ اعظم شہباز شریف کی ملاقات کے دوران سعودی عرب اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے درمیان 27 اکتوبر 2025 کو ریاض میں ہونے والی ملاقات کے دوران اقتصادی تعاون کا فریم ورک شروع کرنے پر اتفاق ہوا. یہ پیش رفت مملکت سعودی عرب اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے درمیان تقریباً آٹھ دہائیوں پر محیط تاریخی شراکت کی مضبوطی اور دونوں ممالک کی قیادت کو متحد کرنے والے بھائی چارے و اسلامی یکجہتی کے مضبوط رشتے کی عکاسی ہے.
صلح کریں یا بیرون ملک بھاگ جائیں، پنجاب کی تاریخ کا سب سے بڑا آپریشن شروع، ویڈیو
فریم ورک کے تحت اقتصادی، تجارتی، سرمایہ کاری اور ترقیاتی شعبوں میں کئی اسٹریٹجک اور اعلیٰ اثرات کے حامل منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا جو دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے، نجی شعبے کے اہم کردار کو بڑھانے اور تجارتی تبادلے کو بڑھانے میں معاون ثابت ہوں گے۔ فریم ورک کے ترجیحی شعبوں میں توانائی، صنعت، کان کنی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاحت، زراعت، اور غذائی تحفظ شامل ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب اس وقت کئی مشترکہ اقتصادی منصوبوں کے حوالے سے تعاون پر کام کر رہے ہیں، جن میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان بجلی کی ترسیل (electricity interconnection) کے منصوبے کے لیے مفاہمتی یادداشت اور دونوں ممالک کے مابین توانائی کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یاداشت پر دستخط بھی شامل ہیں۔
نئے وزیراعظم آزاد کشمیر کیلئے نام فائنل نہ ہوا،تحریک عدم اعتماد فوری جمع کرانے کا فیصلہ مؤخر
یہ فریم ورک باہمی برادرانہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے دونوں ممالک کے اقدامات کی عکاسی کرتا ہے اور اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں پائیدار شراکت داری کی تعمیر کے لیے ان کے مشترکہ وژن کی توثیق کرتا ہے. فریم ورک دونوں ممالک کی قیادت اور برادر عوام کی امنگوں کی ترجمانی اور باہمی مفادات کے حصول کی تکمیل کی خواہش کی عکاسی کرتا ہے. دونوں ممالک کے رہنما سعودی پاکستانی سپریم کوآرڈینیشن کونسل کے اجلاس کے انعقاد کے بھی منتظر ہیں۔
مزید :
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: دونوں ممالک کے کے درمیان کے لیے
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔