ایران کیخلاف دباؤ کی کوئی قانونی بنیاد نہیں، روس
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
جوہری معاملے میں ایران کیلئے ماسکو کی بھرپور حمایت پر تاکید کرتے ہوئے تہران میں روسی سفیر نے اعلان کیا ہے کہ سلامتی کونسل کی پابندیوں کی بحالی پر مبنی یورپ و امریکہ کے اقدامات کا کوئی قانونی جواز نہیں اور یہ اقدامات دوسرے ممالک کیلئے کسی بھی قسم کی قانونی ذمہ داریاں پیدا نہیں کرتے اسلام ٹائمز۔ تہران میں روسی سفیر الیکسی دیدوف نے اعلان کیا ہے کہ ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق موجودہ صورتحال، مغرب کی پیدا کردہ ہے۔ روسی خبر رساں ایجنسی ٹاس کو دیئے گئے انٹرویو میں جوہری معاملے پر ایران کے لئے روس کی بھرپور حمایت پر زور دیتے ہوئے روسی سفیر کا کہنا تھا کہ روس و ایران، ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق صورتحال کو حل کرنے کے لئے مسلسل رابطے میں ہیں جبکہ موجودہ صورتحال مغربی ممالک کے تخریبی اقدامات کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ الیکسی دیدوف نے کہا کہ ہم نے طویل المدتی سیاسی و سفارتی حل کے حصول کے لئے تہران کو مکمل تعاون فراہم کیا ہے اور ہم ایسا کرتے رہیں گے!
روسی سفیر نے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے تسلسل کا ذکر کرتے ہوئے مزید کہا کہ ماسکو و تہران کے درمیان مختلف سطحوں پر مشاورت جاری ہے اور ایک موثر سفارتی حل تلاش کرنے کے لئے تمام کوششیں انجام دی جار یی ہیں۔ روسی سفیر نے ایران کے خلاف سلامتی کونسل کی پابندیوں کی بحالی پر مبنی یورپی ممالک اور امریکہ کے اقدامات کو غیر قانونی اور بلاجواز قرار دیتے ہوئے کہا کہ روس، سلامتی کونسل کی پابندیوں کی بحالی سے متعلق واشنگٹن کی حمایت سے انجام پانے والے یورپی اقدامات کو، قانونی حیثیت اور طریقہ کار کے لحاظ سے ناقابل قبول سمجھتا ہے۔ اپنی گفتگو کے آخر میں دیمتری دیدوف نے اس بات پر بھی تاکید کی کہ ایران پر دباؤ ڈالنے سے متعلق غیر قانونی کوششوں کے سبب، بین الاقوامی برادری کے ایماندار اراکین پر کوئی قانونی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔