روس مغرب کی طرف سے عائد اقتصادی پابندیوں سے کیسے نمٹ رہا ہے؟ روسی وزارت خارجہ نے بتا دیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا ہے کہ روس مغربی پابندیوں سے کامیابی سے ہم آہنگ ہو رہا ہے اور نئی اقتصادی حکمتِ عملیاں اپناتے ہوئے غیر مغربی ممالک کے ساتھ تعاون کو مضبوط بنا رہا ہے۔
تاس نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے زاخارووا نے کہا کہ روس کی خارجہ اور اقتصادی سفارت کاری اب عالمی اکثریت والے ممالک کے ساتھ قابلِ اعتماد تعلقات استوار کرنے پر مرکوز ہے۔
یہ بھی پڑھیے: روسی تیل خریدنے پر پابندیاں، ریلائنس انڈسٹریز کا معاہدوں پر ازسرِنو غور
ان کے مطابق جغرافیائی سیاسی حالات تیزی سے بدل رہے ہیں، مگر روس نے اس زہر کا تریاق بنانا سیکھ لیا ہے۔ مغربی ممالک کی جانب سے روس کو مالی اور تکنیکی طور پر تنہا کرنے کی کوششیں اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکیں۔
زاخارووا نے بتایا کہ حکومت متبادل مالیاتی نظام، قومی کرنسیوں میں تجارت اور برکس ممالک سمیت دیگر شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون کو ترجیح دے رہی ہے۔ انہوں نے مغربی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین خود پابندیوں کے اثرات سے دوچار ہے۔
ترجمان نے برکس کو ‘غیر تصادمی پلیٹ فارم’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مساوات اور باہمی مفاد کو فروغ دیتا ہے، اور کسی رکن ملک کے گروپ چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں۔
یہ بھی پڑھیے: امریکی پابندیوں کے بعد بھارتی ریفائنریز کا روسی تیل کی درآمدات میں کمی کا فیصلہ
دوسری جانب، امریکا کی نئی پابندیوں کے بعد روس کی دو بڑی آئل کمپنیوں روزنیفٹ اور لوک آئل کی مجموعی مارکیٹ ویلیو 5.
تجزیہ کاروں کے مطابق سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی واپسی کے بعد عائد کی جانے والی یہ نئی پابندیاں روس کے توانائی شعبے کو مزید کمزور کر سکتی ہیں اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے ساتھ تعاون محدود کر سکتی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پابندی تیل روس مغربی ممالک
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پابندی تیل مغربی ممالک کے ساتھ کے بعد
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔