حماس نے غزہ کی تباہ شدہ پٹی سے برآمد ہونے والے ایک اور قیدی کی لاش اسرائیل کے حوالے کر دی ہے۔

حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے بتایا کہ ان کے مجاہدین نے رات 11 بجے لاش حوالے کی، تاہم یہ نہیں بتایا کہ لاش کہاں سے برآمد ہوئی۔ فلسطینی تنظیم نے بین الاقوامی برادری اور ثالث ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالیں تاکہ سرحدی گزرگاہیں کھولی جائیں اور امداد کو غزہ پہنچنے دیا جائے۔

اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے بعد ازاں تصدیق کی کہ لاش کو حماس سے حاصل کر کے ریڈ کراس کے ذریعے اسرائیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ اسرائیلی وزارت صحت کے نیشنل سینٹر فار فارنزک میڈیسن میں لاش کی باضابطہ شناخت کے بعد اہل خانہ کو آگاہ کیا جائے گا۔

اسرائیلی فوج نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ باضابطہ شناخت سے قبل افواہوں سے گریز کریں۔ فوج نے یہ بھی کہا کہ حماس معاہدے کی پاسداری کرے اور تمام مقتول مغویوں کی واپسی کے لیے ضروری اقدامات کرے۔

حماس کا کہنا ہے کہ وہ امریکا کی ثالثی میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی شرائط پر عمل پیرا ہے اور وہ تمام قیدیوں کی لاشیں واپس کر چکی ہے جو وہ ملبے سے نکالنے میں کامیاب ہوئی، تاہم باقی لاشوں کی بازیابی کے لیے اسے بھاری مشینری اور امدادی ٹیموں کی ضرورت ہے۔

قطری ٹی وی کے مطابق حماس کا کہنا ہے کہ اب بھی 18 لاشیں غزہ میں موجود ہیں لیکن اسرائیل نے نئی مشینری کو داخلے کی اجازت نہیں دی۔ سابق اسرائیلی سفیر الون لیئل کے مطابق، اسرائیلی عوام میں لاشوں کی واپسی پر جذباتی ردعمل ہے اور حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

قطری ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، ترکیہ نے 81 ماہرین غزہ بھیجنے کی پیشکش کی تھی تاکہ لاشوں کی تلاش میں مدد دی جا سکے، مگر اسرائیل نے اجازت نہیں دی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر حماس نے معاہدے کے مطابق تمام لاشیں واپس نہ کیں تو وہ اسرائیل کو دوبارہ جنگ شروع کرنے کی اجازت دے دیں گے۔ اب تک حماس نے 9 قیدیوں کی لاشیں واپس کی ہیں جبکہ 10ویں لاش جمعے کو حوالے کی گئی، جس کے بارے میں اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ قیدی کی نہیں تھی۔

غزہ کی سول ڈیفنس کے مطابق اب بھی دس ہزار سے زائد فلسطینی شہری ملبے کے نیچے دبے ہوئے ہیں، جن میں سے صرف 280 لاشیں اب تک نکالی جا سکی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کے مطابق ہے کہ وہ کی لاش

پڑھیں:

مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق

ولی خان کے علاقے میں نامعلوم افراد نے سیشن جج کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔ڈی پی او اللہ بخش بلوچ کے مطابق فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کا گن مین جاں بحق ہوگئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت 2 افراد شدید زخمی ہیں۔ڈی پی او کا بتانا ہے کہ سیشن جج اور ایڈیشنل سیشن جج کوئٹہ سے سیشن کورٹ مستونگ آرہے تھے، واقعے کے بعد علاقے کی ناکہ بندی کردی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز، ٹرافی کی رونمائی کردی گئی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم