غزہ میں قحط کا خطرہ برقرار، جنگ بندی کے باوجود امداد کی رفتار سست
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جنیوا: اقوامِ متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP) نے کہا ہے کہ 11 اکتوبر سے جنگ بندی کے بعد سے اب تک بہت کم ٹرک غزہ کے اندر داخل ہوسکیں ہیں، جس کی وجہ سے ، یہ مقدار اب بھی متاثرہ آبادی کی فوری ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کےمطابق صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ورلڈ فوڈ پروگرام کی ترجمان عبیر عطفہ نے بتایا کہ جنگ بندی نے ہمیں ایک محدود مگر قیمتی موقع فراہم کیا ہے اور WFP تیزی سے اپنی کارروائیاں بڑھا رہا ہے تاکہ ان خاندانوں تک خوراک پہنچائی جا سکے جو مہینوں سے محاصرے، بے گھری اور بھوک کا شکار ہیں۔
ان کے مطابق 11 سے 15 اکتوبر کے درمیان تقریباً 230 ٹرکوں کے ذریعے 2,800 ٹن خوراک غزہ منتقل کی گئی جب کہ جمعرات کو دو مزید قافلے کریم شالوم کے راستے گندم اور غذائی اجناس لے کر داخل ہوئے۔
ترجمان نے بتایا کہ ہم ابھی مطلوبہ سطح تک نہیں پہنچے مگر ہم تیزی سے وہاں جا رہے ہیں، WFP نے فی الحال غزہ میں پانچ مقامات پر خوراک تقسیم کرنے کے مراکز قائم کیے ہیں اور انہیں 145 تک بڑھانے کا منصوبہ ہے جو اس شرط پر منحصر ہے کہ ٹرکوں کی آمد کا سلسلہ بلا تعطل جاری رہے۔
عبیر عطفہ نے مزید کہا کہ اس وقت غزہ میں 9 بیکریاں فعال ہیں جو روزانہ ایک لاکھ سے زائد روٹیوں کے پیکٹ تیار کر رہی ہیں، ہر پیکٹ دو کلوگرام وزنی ہے اور ایک پانچ رکنی خاندان کی ایک دن کی ضرورت پوری کرتا ہے، یہ سہولت تقریباً پانچ لاکھ افراد تک رسائی فراہم کر رہی ہے جبکہ ادارہ اس تعداد کو بڑھا کر 30 بیکریوں تک لے جانے کا خواہاں ہے۔
ورلڈ فوڈ پروگرام نے مصر، اردن اور اسرائیل کے اندر تقریباً 60 ہزار ٹن خوراک محفوظ کر رکھی ہے تاکہ جنگ بندی برقرار رہنے کی صورت میں امداد کا تسلسل یقینی بنایا جا سکے۔
خیال رہےکہ حماس کی جانب سے تو جنگ بندی کی مکمل پاسداری کی جارہی ہے لیکن اسرائیل نے اپنی دوغلی پالیسی اپناتے ہوئے 22 سال سے قید فلسطین کے معروف سیاسی رہنما مروان البرغوثی کو رہا کرنے سے انکاری ظاہر کی ہے اور اسرائیل کے متعدد وزیر اپنی انتہا پسندانہ سوچ کے سبب صبح و شام فلسطینی عوام کو دھمکیاں دے رہے ہیں جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی جارحانہ انداز اپناتے ہوئے مسلسل دھمکیاں دے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ اسرائیل مسلسل جنگ بندی کے قواعد وضوابط کی خلاف ورزی کررہا ہے ، عالمی ادارے بھی صیہونی فورسز کی جانب سے کی گئی خلاف ورزی پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
طالبان رجیم کیخلاف بغاوت؛ ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کیلیے نیاحکم جاری
افغان طالبان رجیم کی مرکزی قیادت اور بدخشاں کے مقامی کمانڈروں کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔
طالبان رجیم کے خلاف بغاوت کے اشارے ملنے پر ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے نیا حکم جاری کردیا گیا ہے۔ بدخشاں کے معدنی وسائل پر لڑائی اور عوامی بغاوت کے بعد امیر ہبت اللہ نے حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک سخت حکم نامہ جاری کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بدخشاں کے ناراض طالبان کمانڈروں اور حکام کے اثاثوں کی تفتیش کے لیے اعلیٰ سطح کا وفد مقرر کردیاگیا ہے۔ طالبان کے سربراہ ملا ہبت اللہ کا حکم نہ ماننے والے مقامی کمانڈروں کو فوراً گرفتار کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بدخشاں میں جاری عوامی احتجاج اور بڑھتی ہوئی اندرونی بغاوت کو دبانے کے لیے خصوصی فوجی دستہ بھی تعینات کر دیاگیا ہے۔ قندھار گروپ نے بدخشاں گروپ کے ناراض طالبان رہنماؤں پر دباو ڈالنے کے لیے گرفتاریاں بھی شروع کر دی ہیں۔ اس دوران مقامی طالبان کمانڈر موسیٰ کاکے اور سابق مائنز ڈائریکٹر اسلام الدین کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیاگیا۔
عالمی ماہرین کے مطابق بدخشاں میں جاری لڑائی افغان طالبان کے اندر گہرے ہوتے ہوئے نسلی اور سیاسی اختلافات کا واضح ثبوت ہے۔ طالبان رجیم کیخلاف ملک کے اندر اور باہر شروع ہونے والی نئی تحریکیں،ان کے مکمل کنٹرول اور عوامی حمایت کے جھوٹے دعووں کی پول کھول رہی ہیں۔