کراچی (ویب ڈیسک) کراچی کے تاریخی گل پلازہ میں پیش آنے والے آتشزدگی کے المناک واقعے نے نہ صرف شہر بلکہ پورے پاکستان کو گہرے صدمے میں مبتلا کر دیا۔
اس سانحے پر شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی متعدد معروف شخصیات نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرین کے لیے دعائیں کیں اور ذمہ داران کے احتساب کا مطالبہ کیا۔

اداکارہ ہانیہ عامر نے اپنے پیغام میں کہا کہ گل پلازہ میں جو ہوا وہ تباہ کن ہے، ایسی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں جو کبھی نہیں ہونی چاہئیں، یہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ لاپرواہی، حفاظتی اقدامات کے فقدان اور خاموشی کی ایک تلخ یاد دہانی ہے، جس کی قیمت حقیقی لوگ اپنے مستقبل سے ادا کرتے ہیں، انہوں نے متاثرہ خاندانوں کے لیے طاقت کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ تعزیت کے ساتھ ساتھ احتساب بھی ضروری ہے۔

اداکارہ سجل علی نے واقعے پر شدید رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گل پلازہ میں پیش آنے والے سانحے کو دیکھ کر دل ٹوٹ گیا، ایسے نقصان کے لیے الفاظ کافی نہیں، ان کی دعائیں ان خاندانوں کے ساتھ ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا۔

اداکارہ و گلوکارہ ثمر جعفری، اداکارہ ژالے سرحدی اور کامیڈین علی گل پیر نے بھی مرحومین کے لیے دعائیں کیں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی امید ظاہر کی۔

ریپر ایوا بی اور اداکارہ منال خان نے گل پلازہ سے جڑی اپنی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا، منال خان نے کراچی کے مجموعی حالات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا معاشی دل ہونے کے باوجود یہ شہر ایک اجنبی یتیم کی طرح نظرانداز کیا جا رہا ہے، جسے نہ صوبہ پوری طرح اپناتا ہے اور نہ ہی مرکز۔

اداکارہ یشما گل اور فلم ساز عدنان ملک نے عمارت میں حفاظتی انتظامات کی کمی اور فائر سیفٹی پر نگرانی کے فقدان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا، عدنان ملک نے انکشاف کیا کہ وہ ایک ماہ قبل گل پلازہ گئے تھے اور اسی وقت انہیں عمارت کا ڈیزائن گھٹن زدہ اور خطرناک محسوس ہوا تھا۔

معروف میزبان انوشے اشرف نے اس سانحے کا موازنہ لاہور میں ہونے والی جنید صفدر کی شاہانہ شادی کی تقریبات سے کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف اقتدار کے ایوانوں کے قریب جشن منائے جا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف کراچی کے عوام تکلیف، بے بسی اور نقصان کا سامنا کر رہے ہیں، جو ہمارے نظام کی بے حسی کو واضح کرتا ہے۔

اداکارہ صبور علی نے بھی اس المیے پر ردعمل دیتے ہوئے اللہ سے رحم کی دعا کی اور کہا کہ یہ دکھ ایسا ہے جسے بیان کرنے کے لیے الفاظ ناکافی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کرتے ہوئے کہا کہ گل پلازہ میں کے لیے

پڑھیں:

بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر

اسلام ٹائمز: یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ تنظیم عملاً ہر قسم کی سیاسی یا جماعتی سرگرمیوں سے دور رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کو بحرین میں شیعہ اداروں کے خلاف جاری دباؤ اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ تنظیم ایک ثقافتی، سماجی اور دینی پلیٹ فارم کے طور پر معروف رہی ہے، جو بنیادی طور پر سماجی اور تربیتی امور پر توجہ دیتی رہی ہے۔ خصوصی رپورٹ:

بحرینی حکام نے سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر (19) کے تحت جمعیۃ التوعیۃ الاسلامیۃ (اسلامی آگاہی سوسائٹی) کو تحلیل کرنے کا فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ یہ ادارہ بحرین میں شیعہ آبادی کی سب سے نمایاں ثقافتی اور سماجی تنظیم سمجھا جاتا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ تنظیم عملاً ہر قسم کی سیاسی یا جماعتی سرگرمیوں سے دور رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کو بحرین میں شیعہ اداروں کے خلاف جاری دباؤ اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ تنظیم ایک ثقافتی، سماجی اور دینی پلیٹ فارم کے طور پر معروف رہی ہے، جو بنیادی طور پر سماجی اور تربیتی امور پر توجہ دیتی رہی ہے۔

یہ فیصلہ محض ایک انتظامی اقدام نہیں بلکہ اس کے سیاسی اور سماجی اثرات بھی ہیں۔ بحرین کے شیعہ معاشرے میں اس تنظیم کی اہمیت کے پیش نظر، اسے نشانہ بنانا وسیع حلقوں کی نظر میں شیعہ برادری کے خلاف محدودیت پسند پالیسیوں کا تسلسل سمجھا جا رہا ہے، خصوصاً گزشتہ برسوں میں اس طبقے کے خلاف کیے جانے والے متعدد اقدامات کے تناظر میں۔ یہ تنظیم، جو اس سے قبل بھی مختلف سخت اور غیر منصفانہ کارروائیوں کا نشانہ بن چکی ہے، 1972ء میں بحرین کے ممتاز دینی علماء کے ایک گروہ نے آیت اللہ شیخ عیسیٰ قاسم کی قیادت میں قائم کی تھی۔ بعد ازاں یہ بحرین اور خطے کی سب سے بڑی ثقافتی اور سماجی تنظیموں میں شمار ہونے لگی۔

اس تنظیم کی تحلیل کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ بحرینی حکام نے پہلی مرتبہ فروری 1984ء میں اس تنظیم کو بند کیا تھا اور یہ پابندی 2001ء تک برقرار رہی۔ بعد ازاں قومی منشور پر ہونے والے ریفرنڈم اور ملک میں نسبتاً سیاسی کشادگی کے دور میں اسے دوبارہ سرگرمیوں کی اجازت دی گئی۔ اس کے بعد جون 2016ء میں، شیعہ مذہبی شخصیات اور اداروں کے خلاف وسیع کارروائیوں کے دوران، حکام نے ایک مرتبہ پھر اس تنظیم کو تحلیل کرنے کا حکم جاری کیا۔ 9 جون 2022ء کو تحلیل کا فیصلہ منسوخ کر دیا گیا اور تنظیم نے اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دیں، تاہم اس کی سرگرمیاں مسلسل مختلف پابندیوں کے حصار میں رہیں۔

ان پابندیوں میں قانونی و انتظامی کارروائیاں، تنظیم سے وابستہ ذمہ داران کے خلاف مقدمات، بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تحلیل اور بعض سرگرمیوں کی جبری معطلی شامل تھیں۔ بالآخر تنظیم کے سربراہ اور تین دیگر کارکنان کو بھی اسی ادارے میں اپنی سرگرمیوں کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا، جسے اپوزیشن اور مخالف حلقوں کے ساتھ سکیورٹی طرزِ عمل کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔ سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر (19) کے اجرا کے ساتھ اسلامی آگاہی سوسائٹی ایک بار پھر اپنی مسلسل بندشوں اور پابندیوں کی تاریخ کے نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ اس پیش رفت نے بحرین میں مذہبی آزادیوں کے بارے میں مزید سوالات کو جنم دیا ہے، حالانکہ حکومت خود کو رواداری اور پرامن بقائے باہمی کا داعی قرار دیتی ہے۔

اس تنظیم کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کی تاریخی ترتیب کا جائزہ لیا جائے تو حالیہ تحلیل کو محض ایک انتظامی یا قانونی اختلاف قرار دینا مشکل دکھائی دیتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ 54 برس قبل اپنے قیام سے لے کر آج تک یہ ادارہ اپنی ثقافتی، سماجی اور دینی شناخت کے حوالے سے جانا جاتا رہا ہے۔ دوسری جانب، تنظیم کو بند کرنے کے اقدامات کو ملک کے سب سے بڑے سماجی طبقے کے حوالے سے حکومتی تنگ نظری کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ پالیسیاں معاشرے کو قابو میں رکھنے اور محدود کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں، جو باہمی اعتماد کو کمزور کرتی ہیں اور بحرین کے وسیع ترین عوامی طبقے کو سیاسی و سماجی طور پر حاشیے پر دھکیلنے کے رجحان کو مزید تقویت دیتی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • میرب علی سرجری کے بعد اسپتال منتقل، مداحوں سے صحت یابی کی دعاؤں کی اپیل
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟