کراچی:

شہر قائد کے علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں لگنے والی خوفناک آگ کو 9 گھنٹے گزر جانے کے باوجود تاحال قابو میں نہیں لایا جا سکا، جبکہ آتشزدگی کے بعد پلازہ کے اندر کے ابتدائی اور دل دہلا دینے والے مناظر کی فوٹیجز سامنے آ گئی ہیں۔

ایکسپریس نیوز کو موصول ہونے والی فوٹیجز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ آگ لگنے کے ابتدائی لمحات میں پوری عمارت دھویں سے بھر چکی تھی۔

ایک فوٹیج میں ایک شخص تیز آواز میں دکانداروں اور خریداروں کو خبردار کرتا سنائی دیتا ہے کہ آگ لگ گئی ہے، فوراً باہر نکلیں، جس کے بعد افراتفری اور بھگدڑ کا منظر پیدا ہو جاتا ہے۔

ویڈیوز میں شہریوں کو جان بچانے کے لیے دوڑتے، ایک دوسرے کو دھکے دیتے اور دھویں سے بچنے کے لیے منہ کپڑوں سے ڈھانپتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ مناظر اس خوف اور بے بسی کی عکاسی کرتے ہیں جو چند لمحوں میں پورے پلازہ پر طاری ہو گئی۔

واضح رہے کہ اس ہولناک آتشزدگی کے باعث دم گھٹنے سے 5 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ 20 سے زائد افراد زخمی ہیں، جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

فائر فائٹرز اور ریسکیو حکام کے مطابق آگ کی شدید حدت کے باعث عمارت خستہ حال ہو چکی ہے، ستونوں میں دراڑیں پڑنا شروع ہو گئی ہیں اور کسی بھی وقت عمارت کے منہدم ہونے کا خطرہ موجود ہے۔

دوسری جانب گل پلازہ تاجر ایسوسی ایشن کے صدر نے تشویشناک انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمارت کے اندر اب بھی 80 سے 100 افراد کے موجود ہونے کا خدشہ ہے، جس کے باعث ریسکیو آپریشن انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

 

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • کوہاٹ: ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، بچے سمیت 3 افراد قتل 
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ