گل پلازہ کے ملبے کو جیسے ہی ہٹاتے ہیں، شعلے بلند ہوتے ہیں، اسکاؤٹس رکن
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
تصویر سوشل میڈیا۔
سندھ بوائے اسکاؤٹس کی امدادی ٹیم کے رکن حسن سولنکی کا کہنا ہے کہ گل پلازہ کے سانحہ آتشزدگی میں گرنے والی عمارت کے ملبہ کو جیسے ہی ہٹایا جاتا ہے اس میں سے آگ کے شعلے بلند ہونے لگتے ہیں۔
عمارت میں پھنسے ہوئے افراد کے بچنے کے معدوم امکانات ہیں۔ اس زمین بوس عمارت میں آگ دوبارہ بھڑکھنے کی وجوہات نچلی منزل پر پلاسٹک اور پیٹرولیم میٹریل سے بنی اشیاء کی دکانیں ہیں، جو میٹریل تاحال سلگ رہا ہے جیسے ہی انہیں آکسیجن ملتی ہے یہ دوبارہ بھڑک اٹھتے ہیں ۔
سندھ بوائے اسکاؤٹس کی امدادی ٹیم کے رکن حسن سولنکی نے بتایا کہ وہ کھارادر کےعلاقے کے برکاتی اسکاؤٹس کے 15ساتھیوں کے ساتھ جائے حادثہ پر ہفتہ کی شب سے موجود ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ان کے ایک عزیز آصف تاحال مارکیٹ میں لاپتہ ہے جبکہ ان کے چار بیٹے باہر نکل آئے تھے اسی طرح اور بھی کئی افراد کے عزیز و اقارب کا سراغ نہیں مل رہا، اندیشہ ہے کہ ملبے کے نیچے دبے ہوئے ہیں اور ملبہ ہٹنے کےبعد صحیح صورتحال سامنے آئے گی۔
اسکاؤٹ رکن نے مزید کہا کہ اس وقت بڑی مشینری ہی سے ملبہ ہٹایا جا سکتا ہے کیونکہ عمارت کا دیگر حصہ بھی مخدوش ہے اور کسی بھی وقت گرسکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ عمارت کی چھت پر تین ہیوی جنریٹرز تھے جو بلڈنگ کے گرنے کے سبب نیچے آگرے اور تین منزلہ عمارت کی تینوں چھتیں سینڈوچ بن گئیں۔
جائے حادثہ پر فائر بریگیڈ، امدادی ادارے، نیوی اور پولیس موجود ہیں اب تک 27 سے زائد افراد شہید اور 17زخمی ہوچکے ہیں۔
جائے حادثہ پر موجود سندھ بوائے اسکاؤٹس کے کمشنر برائے امداد محمد طاہر شیخ نے وہاں پہنچ کر اسکاؤٹس کی امدادی ٹیم کی معاونت کیلئے برکاتی اسکاؤٹس اور پاک نائیس اسکاؤٹس کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے ہر آٹھ گھنٹے کے بعد ٹیم کے ممبران کا متبادلہ دستہ بھیجنے کا اہتمام کیا۔
انہوں نے جاں بحق ہونے والے فائر مین فرقان کی شہادت پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ جیسے ہی دو فائر مین آگ بجھاتے ہوئے عمارت میں داخل ہوئے تو تین منزلہ عمارت زمین بوس ہوگئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اسکاو ٹس کی بتایا کہ جیسے ہی
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔