data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی: شہر قائد کے مصروف ترین علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ شاپنگ مال میں آتشزدگی کا واقعہ شہر کی تاریخ کے ہولناک سانحات میں شامل ہو چکا ہے، جس میں جاں بحق افراد کی تعداد 20 ہو چکی ہے جب کہ 70 سے زائد افراد تاحال لاپتا ہیں۔

ہفتے کی شب سوا 10 بجے کے قریب اچانک بھڑکنے والی آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ دو دن سے زائد لگی رہنے والی بے قابو آگ نے نہ صرف عمارت کو زمیں بوس کردیا۔ واقعے میں 18 افراد کی ہلاکتوں کی تصدیق کی جا چکی ہے جب کہ درجنوں (70 سے زائد) افراد تاحال لاپتا ہیں۔ علاوہ ازیں کئی کاروباری افراد اور گھرانے شدید صدمے سے دوچار ہیں۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق افسوس ناک واقعے میں جاں بحق افراد کی تعداد 20 ہو چکی ہے جب کہ تقریباً 73 افراد تاحال لاپتا ہیں، جن کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

آگ لگنے کا آغاز اور ابتدائی صورتحال

عینی شاہدین اور ابتدائی رپورٹس کے مطابق ہفتے کی رات تقریباً 10:15 بجے گل پلازہ کے اندر اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ اس وقت شاپنگ مال میں بڑی تعداد میں تاجر، ملازمین اور خریدار موجود تھے۔ مارکیٹ میں لگی آگ تیزی سے پھیلتی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نے عمارت کے مختلف حصوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

ابتدائی اندازوں کے مطابق آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ چند ہی لمحوں میں دھواں پوری عمارت میں پھیلنے کے ساتھ ساتھ اطراف کے علاقے میں بھی پھیل گیا تھا، جہاں سانس لینا شہریوں کے لیے دشوار ہوگیا تھا۔

اطلاع ملنے پر فائربریگیڈ کی گاڑیاں جائے وقوع پر پہنچیں، تاہم آگ کی شدت، عمارت کے اندر موجود آتش گیر مواد اور تنگ راستوں کے باعث شعلوں پر قابو پانا مشکل رہا، جس کے نتیجے میں آتشزدگی کے دوران عمارت کے 2 حصے منہدم ہو گئے اور صورتحال مزید سنگین ہو گئی۔

آگ پر 36 گھنٹے بعد قابو پایا گیا، خطرات برقرار

آتشزدگی کے تقریباً 36 گھنٹے بعد فائربریگیڈ نے آگ پر قابو پانے کا اعلان کیا۔ چیف فائر آفیسر ہمایوں احمد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گل پلازہ میں لگی آگ کو مکمل طور پر بجھا دیا گیا ہے اور اس وقت کولنگ کا عمل جاری ہے تاکہ دوبارہ آگ بھڑکنے کے امکانات ختم کیے جا سکیں،  تاہم اس سے قبل پیر کی صبح تک صورت حال وہی تھی ، جس کے مطابق عقبی حصے میں سیکنڈ فلور اور گراؤنڈ فلور پر آگ مکمل طور پر قابو میں نہیں آ سکی تھی۔

فائر بریگیڈ حکام کے مطابق عمارت کی خستہ حالی اور لرزنے کے باعث ایک موقع پر فائر فائٹنگ کا عمل روکنا پڑا، کیونکہ خدشہ تھا کہ عمارت کسی بھی وقت مکمل طور پر گر سکتی ہے۔ اسی لیے بعد ازاں صرف ملبہ ہٹانے اور کولنگ کے عمل پر توجہ دی گئی۔

ریسکیو آپریشن

آگ لگنے کے تقریباً 40 گھنٹے بعد ریسکیو اہلکاروں کو عمارت کے اندر داخل ہونے کی اجازت ملی، جہاں اندھیرے، ملبے اور دھویں کے باعث ریسکیو اہلکار ٹارچوں کی روشنی میں اندر موجود افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔ ریسکیو ٹیموں کے مطابق عمارت کے اندر اب بھی کئی افراد کی موجودگی کا خدشہ ہے، جس کے باعث آپریشن کو انتہائی احتیاط کے ساتھ آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے رضاکاروں نے ملبے سے مزید 2 لاشیں آج نکالیں، جنہیں ایمبولینسز کے ذریعے سول اسپتال منتقل کیا گیا۔ بعض لاشیں اس حد تک جھلس چکی ہیں کہ ان کی شناخت ممکن نہیں رہی، جس کے باعث انہیں امانتاً ایدھی سرد خانے میں رکھوا دیا گیا ہے۔

جاں بحق افراد اور زخمیوں کی صورتحال

ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں ایک خاتون جب کہ باقی تمام مرد شامل ہیں۔ اب تک دم گھٹنے اور جھلسنے کے باعث 20  افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں جب کہ لاشیں نکلنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

اسپتالوں سے موصولہ اطلاعات کے مطابق دھویں سے متاثر ہونے والے متعدد افراد کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد گھر بھیج دیا گیا۔ مجموعی طور پر 30 افراد زخمی ہوئے جن میں سے 13 کو برنس سینٹر، 15 کو ٹراما سینٹر اور 2 کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔ 2 فائر فائٹرز، ارشاد اور بلال، بھی زخمی ہوئے جو پی این ایس شفا میں زیر علاج ہیں۔

جاں بحق اور زخمی افراد کی فہرست

ریسکیو حکام کی جانب سے جاری فہرست کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں کاشف ولد یونس (40 سال)، فراز ولد ابرار (55 سال)، محمد عامر ولد نامعلوم (30 سال)، فرقان ولد شوکت علی (25 سال) سمیت دیگر افراد شامل ہیں جن کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی۔

زخمی اور متاثرہ افراد میں حسیب ولد وسیم، وسیم ولد سلیم، دانیال ولد سراج، صادق ولد نامعلوم، حمزہ ولد محمد علی، رحیم ولد گل محمد، فہد ولد محمد ایوب، جواد ولد جاوید، ایان ولد نامعلوم، عبداللہ ولد ظہیر، عثمان ولد اصغر علی، فہد ولد حنیف، زین ولد عبداللہ، نادر ولد نامعلوم اور دیگر شامل ہیں۔

لاپتا افراد

ابتدائی طور پر 56 افراد کے لاپتا ہونے کی شکایات سامنے آئیں جب کہ صدر گل پلازہ تاجر ایسوسی ایشن کے مطابق آگ لگنے کے وقت عمارت میں 80 سے 100 افراد موجود ہو سکتے تھے، تاہم ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق 59 افراد لاپتا ہیں جن کی تفصیلات حاصل کر لی گئی ہیں۔ دیگر ذرائع سے لاپتا افراد کی تعداد 73 تک بتائی جا رہی ہے۔

پولیس نے لاپتا افراد کی تلاش کے لیے موبائل فون لوکیشنز کا سہارا لیا۔ اسد رضا کے مطابق اب تک 26 افراد کی لوکیشن گل پلازہ کے قریب ملی ہے جب کہ دیگر نمبرز کی اسکرونٹی جاری ہے۔

فیصل ایدھی کی اپیل

ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے بتایا کہ 55 سے زائد افراد کے ورثا نے لاپتا ہونے کی اطلاع دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فائرفائٹرز اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر آگ بجھانے اور لوگوں کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ فیصل ایدھی نے عوام سے اپیل کی کہ پولیس اور انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں اور عمارت کے قریب جانے سے گریز کریں۔

عمارت کی حالت اور نقصانات

گل پلازہ ایک پرانی عمارت ہے جو 1980 کی دہائی میں تعمیر کی گئی تھی۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے مطابق یہ بیسمنٹ، گراؤنڈ اور 3 منزلہ عمارت تھی جس میں تقریباً 1000 سے 1200 دکانیں موجود تھیں۔ آگ کے نتیجے میں گراؤنڈ فلور کی تمام دکانیں اور گودام مکمل طور پر جل گئے جب کہ آگ تیسری منزل تک پہنچ گئی۔

حکام کے مطابق عمارت کی خستہ حالت کے باعث کسی بھی وقت مزید حصے گرنے کا خدشہ ہے، اسی لیے ریسکیو آپریشن انتہائی احتیاط سے جاری ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ کا دورہ

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گل پلازہ کا دورہ کیا ، جہاں انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آگ لگنے کی اطلاع ملتے ہی میونسپل اتھارٹیز نے فوری ریسپانس دیا۔ رات 10 بج کر 27 منٹ پر پہلا فائر ٹینڈر جائے وقوع پر پہنچا جب کہ مجموعی طور پر 26 فائر ٹینڈرز، 4 اسنارکل اور 10 باؤزرز نے آپریشن میں حصہ لیا۔ کے ایم سی کے علاوہ پاکستان نیوی اور سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بھی آگ بجھانے کے لیے مشینری فراہم کی۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق 6 افراد جاں بحق ہوئے جن میں ایک کے ایم سی کا فائر فائٹر بھی شامل تھا، تاہم بعد ازاں یہ تعداد بڑھ گئی۔ وزیراعلیٰ نے تاجروں کے نقصانات کا ازالہ کرنے اور متاثرین کو ہر ممکن ریلیف فراہم کرنے کا اعلان کیا۔

فائر بریگیڈ اور ریسکیو اداروں کی جدوجہد

فائر بریگیڈ حکام کے مطابق اس آتشزدگی کو تیسرے درجے کی آگ قرار دیا گیا۔ شہر بھر سے 20 سے زائد فائر بریگیڈ کی گاڑیاں طلب کی گئیں جب کہ 2 اسنارکلز کے ذریعے آگ بجھانے کی کوششیں کی گئیں، تاہم عمارت کی خراب حالت کے باعث فائر فائٹرز کو اندر داخل ہونے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

چیف فائر آفیسر کے مطابق پھنسے ہوئے افراد کو اسنارکل کی مدد سے نکالا گیا، مگر ملبے اور آگ کی شدت نے ریسکیو عمل کو سست کر دیا۔

سی پی ایل سی ہیلپ ڈیسک اور ڈی این اے شناخت

لاشوں کی شناخت کے لیے سی پی ایل سی شناخت پروگرام کی ٹیم نے سول اسپتال ٹراما سینٹر کے باہر کیمپ قائم کر دیا ہے۔ انچارج کے مطابق متاثرین کے لواحقین ہیلپ ڈیسک پر اپنے پیاروں کی تفصیلات فراہم کر سکتے ہیں۔ ناقابل شناخت لاشوں کی ڈی این اے کے ذریعے شناخت کی جائے گی، جیسا کہ ماضی میں پی آئی اے طیارہ حادثے اور دیگر سانحات میں کیا گیا تھا۔ اب تک 40 افراد رجسٹریشن کروا چکے ہیں۔

واٹر کارپوریشن اور دیگر اداروں کا بیان

ترجمان واٹر بورڈ کے مطابق فائر بریگیڈ اور ریسکیو 1122 کی درخواست پر نیپا اور صفورہ ہائیڈرنٹس پر ایمرجنسی نافذ کی گئی اور واٹر ٹینکرز فوری طور پر جائے وقوع پر روانہ کیے گئے۔ واٹر کارپوریشن کی جانب سے بلا تعطل پانی کی فراہمی یقینی بنائی گئی جب کہ فوکل پرسن شہباز بشیر نے خود آپریشن کی نگرانی کی۔

کے ایم سی، رینجرز اور دیگر اداروں کی شمولیت

میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی ہدایت پر کے ایم سی کی ہیوی مشینری جائے وقوع پر پہنچی اور میونسپل کمشنر سید محمد افضل زیدی نے ریسکیو آپریشن کی نگرانی کی۔ واقعے کی سنگینی کے پیش نظر سندھ رینجرز کے دستے بھی ریسکیو آپریشن میں شامل کیے گئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: افراد کی تعداد ریسکیو آپریشن جاں بحق افراد فائر بریگیڈ ولد نامعلوم لاپتا ہیں کے ایم سی گل پلازہ عمارت کی اور دیگر کے مطابق عمارت کے ہے جب کہ آگ لگنے کے اندر دیا گیا کے باعث جاری ہے کی گئی کے لیے

پڑھیں:

اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔

اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔

فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔

مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔

اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔

ادارت: مقبول ملک

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد