پاکستان سپر لیگ کے انتظامی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیوں کا فیصلہ کرلیا گیا۔
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
پاکستان سپر لیگ کے انتظامی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیوں کا فیصلہ کرلیا گیا ہے، جس کے تحت کھلاڑیوں کی سلیکشن کا موجودہ نظام ختم کرکے آکشن سسٹم متعارف کرایا جا رہا ہے۔ پی ایس ایل انتظامیہ کے مطابق ان تبدیلیوں کا مقصد لیگ کو مزید شفاف، متوازن اور تجارتی طور پر مضبوط بنانا ہے۔ لاہور میں پی ایس ایل انتظامیہ کی جانب سے کیے گئے اعلان کے مطابق آئندہ سیزنز میں کھلاڑیوں کی سلیکشن آکشن کے ذریعے کی جائے گی، جس سے تمام ٹیموں کو متوازن بنانے میں مدد ملے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ آکشن سسٹم کے تحت کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتوں کے مطابق زیادہ کمائی کے مواقع بھی میسر آئیں گے۔انتظامیہ کے مطابق ہر کیٹیگری میں صرف ایک کھلاڑی شامل کیا جائے گا، جبکہ مینٹورز، برانڈ ایمبیسڈر اور رائٹ ٹو میچ جیسے قوانین کو ختم کرنے کا فیصلہ بھی کرلیا گیا ہے۔ نئی شامل ہونے والی دو ٹیموں کو چار چار کھلاڑی منتخب کرنے کی اجازت ہوگی تاکہ وہ مسابقتی ٹیم تشکیل دے سکیں۔ہر فرنچائز کو ایک انٹرنیشنل کھلاڑی کو ڈائریکٹ سائن کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے، ڈائریکٹ سائننگ کے لیے اہل بین الاقوامی کھلاڑی کے لئے لازمی ہوگا کہ وہ 2025 ایڈیشن کا حصہ نہ رہا ہو۔اس کے علاوہ آکشن میں استعمال کرنے کے لیے ہر ٹیم کا سیلری کیپ 16 لاکھ ڈالرز تعین کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ کا آغاز 26 مارچ سے ہوگا، جبکہ لیگ کے کچھ میچز اقبال اسٹیڈیم فیصل آباد میں بھی کھیلے جائیں گے۔انتظامیہ کے مطابق ان اصلاحات سے لیگ کے معیار میں بہتری آئے گی اور شائقین کرکٹ کو زیادہ دلچسپ اور مسابقتی مقابلے دیکھنے کو ملیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
(سٹی42)سندھ حکومت نے مہنگے داموں پاسکو سے گندم خرید کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
2024 کی پرانی گندم پاسکو سے خرید ی جائے گی،پاسکو نے فی 40 کلو گرام کا 4150 روپے نرخ مقرر کیا ہے۔
پاسکو نے 2 لاکھ 20 ہزار 665 میٹرک ٹن گندم سندھ کو دینے کی پیشکش کی ہے،سندھ نے کاشت کاروں کیلئے 3500 روپے گندم خریداری کا نرخ مقرر کیا تھا لیکن کاشت کاروں نے کم نرخ کی وجہ سے گندم حکومت کو نہیں دی اورسندھ حکومت ایک لاکھ میٹرک ٹن گندم نہیں خرید سکی۔
سندھ حکومت نےرواں سال 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم خرید کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا،اب سندھ حکومت 650 روپے فی 40 کلو گرام 650 روپے مہنگی گندم خرید رہی ہے،سندھ حکومت نے بیرون ممالک سے 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔
محکمہ خوراک سندھ کے مطابق صوبے کو 16 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد گندم کی قلت کا سامنا ہے، سندھ میں گندم کی ضرورت 65 لاکھ 30 ہزار میٹرک ٹن ہے،سندھ میں گندم کی پیداوار 47 لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ ہوئی ، جبکہ ایک لاکھ 40 ہزار میٹرک ٹن پرانی گندم کے ذخائر موجود ہیں۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
محکمہ خوراک کے مطابق اوپن مارکیٹ میں زیادہ نرخ کی وجہ کاشت کاروں سے گندم خرید نہیںسکے،گندم کی قلت کا سامنا کرنے کی وجہ سے گندم درآمد کرنی پڑے گی،سندھ کابینہ نے گزشتہ روز گندم در آمد کرنے کی منظوری دیدی ہے۔