’’میں مر جاؤں گا مجھے بچالو‘‘ گل پلازہ سے لاپتہ نوجوان کی بھائی کو آخری کال
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک : گل پلازہ میں لگی آگ کے بعد لاپتہ نوجوان نے بھائی کو آخری کال میں کہا ” میں مر جاؤں گا، مجھے بچالو!“۔
کراچی کے گل پلازہ شاپنگ مال میں ہفتے کی رات لگنے والی ہولناک آگ کے بعد کئی افراد لاپتہ ہیں، جن میں دکاندار اور خریدار شامل ہیں۔ دوسری طرف رشتہ دار اپنے پیاروں کی خبر لینے کے لیے دربدر پھر رہے ہیں۔ واقعے میں کم از کم 14 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں ، جبکہ حکام نے انتباہ دیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے کیونکہ کئی افراد اب بھی عمارت کے اندر پھنسے ہوئے ہیں۔
وفاقی حکومت کا بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کا فیصلہ
گل پلازہ میں لگی آگ کے بعد لاپتا نوجوان کے بھائی نے کہا کہ بھائی دکان سے لائٹ جلا کر سگنل دیتا رہا اور کال پر کہا: ’’میں مر جاؤں گا، مجھے بچالو!‘‘
نوجوان کے بھائی نے بتایا کہ دکان کے دیگر افراد نے کھڑکی توڑنے کی کوشش کی، لیکن کامیابی نہ مل سکی۔
ایک اور نوجوان نے بتایا اس کا بھائی ڈر کی وجہ سے باہر نہیں نکل سکا، دکان کے اندر بیٹھا رہا لیکن صبح سے اس سے کوئی رابطہ نہیں ہو پا رہا۔
محکموں کو الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی: پی ڈی ایم اے
متاثرہ خاندان کی ایک خاتون نے بھی مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا میرے شوہر اور دو بچے اندر ہیں، خدا کے لیے کسی طرح انہیں بچا لیں۔
گل پلازہ میں آگ نے نہ صرف دکانوں اور مال کو نقصان پہنچایا بلکہ کئی افراد ابھی بھی لاپتہ ہے اور ریسکیو ٹیمیں لاپتا افراد کو نکالنے کے لیے دن رات کام کر رہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: گل پلازہ
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔