کراچی: شاپنگ پلازہ میں آگ، جاں بحق افراد کی تعداد 10 ہوگئی، 22 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
کراچی گل پلازہ کی جلی عمارت سے مزید 4 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں، آگ سے جاں بحق افراد کی تعداد 10 ہو گئی، جبکہ 22 زخمی زیر علاج ہیں۔
پلازہ کی تیسری منزل پر پھنسے کسی شخص کی موجودگی کے امکان پر ریسکیو آپریشن میں اتوار کی رات فائر فائٹرز عمارت کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوئے۔
جلی ہوئی دکانوں میں محدود سرچ آپریشن کیا گیا جس میں ریسکیو ورکرز نے صدائیں لگا لگا کر زندگی کی تلاش کی کوششیں کی اور جائے حادثہ پر تھرمل کیمرے لگادیے گئے، ایک بچے سمیت 3 افراد کے اعضا ملے ہیں، انسانی اعضا سول اسپتال ٹراما سینٹر منتقل کردیے گئے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اہل خانہ سے لاپتہ افراد کے موبائل نمبر حاصل کرلیے ہیں، 20 سے زائد افراد کے فونز کی آخری لوکیشن گل پلازہ کی آئی ہے۔
70 سے زائد لوگوں کا لاپتہ ہونا المیہ ہے، گورنر سندھگورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا کہ 70 سے زائد لوگوں کا لاپتہ ہونا المیہ ہے، کوئی نہیں چاہتا آگ لگے، کسی کا کاروبار تباہ ہو، ہمیں آگ لگنے کے عوامل کو جاننا ہے۔
گل پلازہ پر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ نقصان کے ازالے تک ساتھ کھڑا رہوں گا، متاثرین کو معاوضہ دلانے کیلئے سندھ اور وفاقی حکومت سے بات کروں گا۔
کولنگ کا عمل کب مکمل ہوگا وقت نہیں دے سکتا، میئر کراچیمیئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے گل پلازہ کا دوبارہ دورہ کیا اور امدادی کاموں کو تیز کرنے کی ہدایت کی۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ 65 کے قریب لوگ لاپتا ہیں، رش کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات ہیں، عمارت کے پیچھے سے بھی آپریشن کیا جا رہا ہے، آگ پر مکمل کنٹرول اور کولنگ کا عمل کب مکمل ہوگا وقت نہیں دے سکتا۔
انہوں نے کہا کہ ہفتے کی رات 10بجکر27 منٹ پر کال آئی اور 15منٹ میں فائر بریگیڈ پہنچ گئی، فائر بریگیڈ وقت پر نہ پہنچنے کی بات درست نہیں۔
گزشتہ روز جائے وقوعہ پر موجود لوگوں نے مرتضیٰ وہاب کی آمد پر احتجاج کیا، نعرے بھی لگائے تاہم میئر کراچی نے کہا کہ عوام جذباتی ہیں ان کا دکھ سمجھتا ہوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
ولی خان کے علاقے میں نامعلوم افراد نے سیشن جج کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔ڈی پی او اللہ بخش بلوچ کے مطابق فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کا گن مین جاں بحق ہوگئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت 2 افراد شدید زخمی ہیں۔ڈی پی او کا بتانا ہے کہ سیشن جج اور ایڈیشنل سیشن جج کوئٹہ سے سیشن کورٹ مستونگ آرہے تھے، واقعے کے بعد علاقے کی ناکہ بندی کردی گئی ہے۔