گل پلازہ آگ میں تخریب کاری کے شواہد نہیں، ایڈیشنل آئی جی کراچی
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی:ایڈیشنل آئی جی کراچی پولیس آزاد خان نے سانحہ گل پلازہ کی ابتدائی تحقیقات کے بعد کہا ہے کہ واقعے میں کسی قسم کی تخریب کاری کے امکانات نہیں ہیں۔
آزاد خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق آگ لگنے کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے، تاہم تخریب کاری کی کوئی تصدیق شدہ اطلاع نہیں ملی۔
آزاد خان کے مطابق گل پلازہ میں آگ ہفتے کی رات 10 بج کر 20 منٹ پر لگی، جو گراؤنڈ فلور سے شروع ہو کر تیسری منزل تک پھیل گئی۔ شدید آتشزدگی کے نتیجے میں عمارت کے کئی حصے منہدم ہو گئے جبکہ متعدد افراد دھویں کے باعث دم گھٹنے سے جاں بحق ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ واقعے کے دوران کئی افراد لاپتہ بھی ہوئے، تاہم فائر بریگیڈ نے 33 گھنٹے مسلسل کوششوں کے بعد آگ پر قابو پا لیا۔ اس وقت عمارت میں کولنگ کا عمل جاری ہے اور ملبے سے مزید لاشوں اور زخمیوں کی تلاش کا کام بدستور جاری ہے۔
پولیس چیف نے گل پلازہ میں آگ لگنے سے متعلق گردش کرنے والی افواہوں کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ واقعہ ایک حادثاتی آتشزدگی ہے، نہ کہ کسی جان بوجھ کر کی گئی تخریب کاری۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: تخریب کاری گل پلازہ
پڑھیں:
کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
فائل فوٹو۔جناح اسپتال کراچی کے واش روم میں بچے کی پیدائش کے معاملے پر تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرکو جمع کروا دی۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا متاثرہ خاتون رات ساڑھے 9 بجے گائنی وارڈ میں آئی، گائنی وارڈ میں کسی نے بھی خاتون کو طبی امداد نہیں دی۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق خاتون کا الٹرا ساؤنڈ نہیں کروایا گیا اور چہل قدمی کا مشورہ دیا گیا۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق کنسلٹنٹ اور آر ایم او ڈیوٹی پر موجود نہیں تھے، مریضوں کے ساتھ آنے والے مرد گائنی وارڈ کے احاطےمیں موجود تھے۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق میڈیکل آفسر کو محکمہ صحت بھیجنے اور ڈیوٹی پر موجود پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کی 3 ماہ مزید ٹریننگ کی تجویز ہے۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں سیکیورٹی گارڈز کی ڈیوٹی پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ کمیٹی کی جانب سے بنائی گئی رپورٹ سیکریٹری اور وزیر صحت کو دے دی گئی۔