کراچی کے گل پلازہ میں پیش آنے والے افسوسناک آتشزدگی کے واقعے میں جاں بحق افراد کی تعداد بڑھ کر 26 ہو گئی ہے، جب کہ اب تک 73 افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

سندھ حکومت کی قائم کردہ ہیلپ ڈیسک کے مطابق گزشتہ روز 70 افراد لاپتا رپورٹ ہوئے تھے، جبکہ مزید 3 افراد کے نام آج فہرست میں شامل کیے گئے ہیں، جن میں متعدد خواتین بھی شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: گل پلازہ سانحہ: وزیراعلیٰ سندھ کا جاں بحق افراد کے لیے فی کس ایک کروڑ روپے امداد کا اعلان

ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ طویل کوششوں کے بعد عمارت میں لگنے والی آگ بڑی حد تک بجھا دی گئی ہے اور اس وقت کولنگ کا عمل جاری ہے، جبکہ لاپتا افراد کی تلاش کا سلسلہ بھی بدستور جاری ہے۔

حکام کے مطابق ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں آگ ہفتے کی شب تقریباً سوا 10 بجے گراؤنڈ فلور پر شروع ہوئی، جو تیزی سے اوپر کی منزلوں تک پھیل گئی۔

’شدید آتشزدگی کے باعث عمارت کے مختلف حصے منہدم ہو گئے، جس سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی۔ متاثرہ افراد کے لواحقین کئی گھنٹوں تک جلتی ہوئی عمارت کے باہر بے بسی کے عالم میں اپنے پیاروں کا انتظار کرتے رہے۔‘

فائر بریگیڈ نے 33 گھنٹے کی مسلسل جدوجہد کے بعد آگ پر مکمل قابو پایا، جس کے بعد فائر فائٹرز عمارت کے اندر داخل ہوئے اور محدود پیمانے پر سرچ آپریشن کیا گیا۔

اس دوران ایک بچے سمیت 3 افراد کے اعضا برآمد ہوئے، جنہیں سول اسپتال کے ٹراما سینٹر منتقل کر دیا گیا۔ اب تک سانحہ گل پلازہ میں 26 اموات کی تصدیق ہو چکی ہے۔

دریں اثنا کراچی پولیس چیف آزاد خان نے ابتدائی تحقیقات کے بعد واقعے میں تخریب کاری کے امکان کو مسترد کردیا ہے۔

چیف فائر آفیسر کے مطابق ہفتے کی شب 10 بج کر 14 منٹ پر گل پلازہ میں واقع آرٹیفیشل گملوں اور پھولوں کی دکان میں آگ بھڑکی، جس کی اطلاع 10 بج کر 38 منٹ پر ریسکیو 1122 کو دی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ 1122 کے دو فائر ٹینڈرز 10 بج کر 57 منٹ پر جائے وقوعہ پر پہنچے، تاہم عمارت کے تنگ داخلی و خارجی راستوں کے باعث امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات پیش آئیں۔

چیف فائر آفیسر نے مزید بتایا کہ عمارت کے تمام داخلی اور خارجی راستے دھوئیں سے بھر گئے تھے، جبکہ آگ بجھانے کے دوران دو سے تین گھنٹوں تک پانی کی قلت کا سامنا رہا۔

’پانی کی فراہمی کے لیے آنے والے ٹینکر گرومندر کے قریب جاری تعمیراتی کام میں پھنس گئے، جبکہ ہجوم اور ٹریفک کے باعث بھی مسائل پیدا ہوئے۔ ان کے مطابق آگ پر قابو پانے کے لیے پہلے ہی دن فوم کا استعمال کیا گیا تھا۔‘

انہوں نے بتایا کہ عمارت کے تین مختلف حصے گر چکے ہیں اور پلازہ اب مخدوش حالت میں ہے۔ موقع پر تاحال 12 فائر ٹینڈرز، 6 واٹر باؤزر اور 2 اسنارکل موجود ہیں۔ آگ پر 90 فیصد قابو پا لیا گیا ہے، تاہم عمارت کے اندر موجود سامان میں اب بھی 10 فیصد آگ باقی ہے، جبکہ گراؤنڈ فلور کی تمام دکانوں میں لگی آگ رات گئے مکمل طور پر بجھا دی گئی تھی۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اعلان کیا ہے کہ سانحے میں شہید ہونے والے افراد کے لواحقین کو فی کس ایک کروڑ روپے مالی امداد دی جائے گی۔

انہوں نے کہاکہ جن تاجروں کا کاروبار مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے، ان کے نقصانات کا ازالہ بھی کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: خاکستر ہونے والے گل پلازہ میں ٹارچ کی روشنی امید کی کرن

انہوں نے کہاکہ ماضی میں بھی ایسے واقعات میں متاثرین کو معاوضہ دیا گیا اور اس بار بھی حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرے گی۔

مراد علی شاہ نے بتایا کہ گل پلازہ میں ایک ہزار سے 12 سو کے قریب دکانیں مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو چکی ہیں۔ حکومت کی کوشش ہوگی کہ متاثرہ تاجروں کو متبادل جگہ فراہم کی جائے تاکہ وہ اپنا کاروبار دوبارہ شروع کر سکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews افسوسناک واقعہ تخریب کاری تلاش جاری ریسکیو حکام صورت حال سنگین کراچی آتشزدگی لاپتا افراد وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: افسوسناک واقعہ تخریب کاری تلاش جاری ریسکیو حکام صورت حال سنگین کراچی ا تشزدگی لاپتا افراد وی نیوز گل پلازہ میں افراد کے کے مطابق عمارت کے انہوں نے بتایا کہ کے لیے کے بعد

پڑھیں:

کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار

ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • کوہاٹ: ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، بچے سمیت 3 افراد قتل 
  • خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان 
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق