تھیٹر اداکارائیں بلاوجہ نوٹسز سے پریشان، انتظامیہ سے ریلیف کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
سٹی42: تھیٹر انڈسٹری سے وابستہ اداکاراؤں نے انتظامیہ کی جانب سے بلاوجہ نوٹسز بھیجے جانے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلسل نگرانی اور سخت رویوں کی وجہ سے فنکار ذہنی دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں۔
اداکاراؤں کا کہنا ہے کہ تھیٹر میں لائیو پرفارمنس ہوتی ہے جہاں بعض اوقات غیر ارادی غلطیاں ہو جاتی ہیں، جنہیں بنیاد بنا کر نوٹسز جاری کرنا ناانصافی ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ادارے انہیں ملازم نہیں بلکہ فنکار سمجھیں اور مناسب مارجن دیا جائے۔
شعبان المعظم کا چاند; تاحال لاہور میں نظر نہیں آیا
اداکارہ نازلی نور نے مانیٹرنگ ٹیموں کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ساتھ ایسا برتاؤ کیا جاتا ہے جیسے وہ کوئی گناہ کر رہی ہوں، جو انتہائی توہین آمیز ہے۔ فیروزہ علی کا کہنا تھا کہ تھیٹر میں مثبت تبدیلی آئی ہے، اب فیملیز بھی شوز دیکھنے آتی ہیں، اس کے باوجود بلاوجہ نوٹسز بھیج کر انڈسٹری کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔
اداکارہ نایاب علی نے کہا کہ لائیو پرفارمنس کے دوران معمولی غلطیوں کو نظرانداز کیا جانا چاہیے، جبکہ اداکارہ سلک کے مطابق ماضی کے مقابلے میں اب حالات کافی بہتر ہیں اور پہلے جیسا ماحول اب موجود نہیں رہا۔
ترقیوں کے منتظر اساتذہ کے لئے اچھی خبر
اداکاراؤں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ تھیٹر انڈسٹری کو بلاوجہ دباؤ میں لانے کے بجائے اسے چلنے دیا جائے تاکہ فنکار یکسوئی کے ساتھ اپنا کام جاری رکھ سکیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔