ملکی انڈسٹری قبرستان میں تبدیل ہو رہی ہے،ایس ایم تنویر
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
لاہور :سابق وزیر صنعت و تجارت ایس ایم تنویر نے کہا کہ ملکی انڈسٹری قبرستان میں تبدیل ہو رہی ہے، ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان سے فرار ہو رہی ہیں، پاکستان میں بے روزگاری میں اضافہ ہوگا، انڈسٹری اس وقت وینٹی لیٹر پر ہے اس کو بچا لیں۔
حال ہی میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر صنعت و تجارت ایس ایم تنویر نے کہاکہ کاروباری حالات ملکی حالات اور اکانومی کو بزنس کمیونٹی نے ہی چلانا ہے۔
ہم تاجر ہیں ہم حکو مت کے خلاف نہیں ہیں، اگر غلط کام کریں گے تو ہم بات کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ پچھلے دو سالوں سے 150 ٹیکسٹائل یونٹس بند ہوگئے ہیں، ایک ہزار یونٹس لگانے میں تین نسلیں لگ جاتی ہیں، گوجرانوالہ کی تمام انڈسٹری تباہی کے دہانے پر ہے۔
ورلڈ اکنامک گلوبل رسک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بے روزگاری میں اضافہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ا سٹاک ایکسچینج چڑھ جانا اچھی بات ہے، اسٹاک ایکسچینج چڑھ جانے سے تاجر کو فائدہ نہیں ہوتا،ا سٹاک ایکسچینج چڑھ تو جاتی ہے لیکن پیسہ سارا دبئی جا رہا ہے، اصل کام تو یہ ہے کہ پیسہ ملک واپس لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ پچھلے سال 11.
24 ٹریلین ٹیکس اکٹھا کیا، حکومت نے 8 ٹریلین ٹیکس سود میں دیا ، 68 فیصد ٹیکس سود میں دیا گیا۔
ایس ایم تنویر نے کہا کہ اس سال حکومت نے پچھلے سال سے زائد تین فیصد ٹیکس لینا ہے، ہم ٹیکس دینے کے خلاف نہیں لیکن جو ٹیکس نہیں دیتے ان سے لیں۔انہوں نے کہا کہ ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان سے فرار ہو رہی ہیں، یہ ہمارا ملک ہے ہم مل کر اسے ٹھیک کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل انہوں نے کہا کہ ایس ایم تنویر ہو رہی
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔