افغانستان میں فتنہ الخوارج اور القاعدہ کی موجودگی کے ناقابل تردید شواہدمنظرعام پر
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
ویب ڈیسک: اقوام متحدہ کی رپورٹ میں افغانستان میں فتنہ الخوارج اور القاعدہ کی موجودگی کے ناقابل تردید شواہد منظر عام پر آگئے۔
اقوام متحدہ سکیورٹی کونسل کو پیش کی گئی رپورٹ میں افغانستان میں دہشت گردوں کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، یہ 36 ویں رپورٹ تجزیاتی معاونت اور پابندیوں کی نگران ٹیم نے 24 جولائی 2025ء کو پیش کی تھی۔
رپورٹ کے صفحہ 16 پر بتایا گیا ہے کہ افغانستان کی De facto authorities دہشت گرد گروہوں، بشمول القاعدہ اور اس کے اتحادیوں، کو کھلی چھوٹ دیے ہوئے ہیں، یہ دہشتگرد گروہ وسطی ایشیا اور دیگر ممالک کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
مکہ مکرمہ میں تاریخی ’’کنگ سلمان گیٹ‘‘ منصوبے کا اعلان
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ افغانستان میں القاعدہ کی موجودگی کا تعلق زیادہ تر عرب نژاد جنگجوؤں سے ہے، یہ جنگجو وہی ہیں جنہوں نے ماضی میں طالبان کے ساتھ مل کر جنگ کی تھی، یہ جنگجو افغانستان کے چھ صوبوں غزنی، ہلمند، قندھار، کنڑ، ارزگان اور زابل میں پھیلے ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق افغانستان میں القاعدہ سے منسلک کئی تربیتی مراکز کی موجودگی کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، تین نئے تربیتی مراکز میں القاعدہ اور ٹی ٹی پی( فتنہ الخوارج) کے دہشتگردوں کو تربیت دی جاتی ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا ''فتنہ الخوارج''کے خلاف کامیاب آپریشن پر پاک فوج کو خراج تحسین
رپورٹ کے پیراگراف 19 میں کہا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی( فتنہ الخوارج) کے پاس تقریباً 6,000 جنگجو موجود ہیں،ٹی ٹی پی( فتنہ الخوارج)کو مختلف اقسام کے ہتھیاروں تک رسائی حاصل ہے، ان ہتھیاروں کی دستیابی نے اس کے حملوں کی ہلاکت خیزی میں اضافہ کر دیا ہے۔
خطے کے پائیدار امن اور علاقائی سلامتی کیلئے ضروری ہے کہ دہشتگردوں کی سہولت کاری کا قلع قمع کیا جائے۔
قومی انسدادِ پولیو مہم تیسرے روز بھی کامیابی سے جاری
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: افغانستان میں فتنہ الخوارج کی موجودگی گیا ہے
پڑھیں:
سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
کراچی کی سٹی کورٹ میں ڈاکٹر آکاش قتل کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے پولیس کو مقدمے کی تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
پولیس کے مطابق ایس آئی یو ویسٹ نے ڈاکٹر آکاش کے قتل میں ملوث ملزمان کے خلاف مزید کارروائی کرتے ہوئے تین افراد، سریش عرف ساگر، انیل اور رام چند کے قتل کا مقدمہ اسلم پہنور اور اس کے ساتھیوں کے خلاف درج کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسلم پہنور ایک ڈکیت گروہ کا سرغنہ ہے۔
پولیس کے مطابق ملزمان نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں زیر حراست تین ملزمان اور ایک ہیڈ کانسٹیبل زخمی ہو گئے۔ بعد ازاں زیر حراست تینوں ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے، جبکہ زخمی ہیڈ کانسٹیبل کو اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اس کا علاج جاری ہے۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر آکاش کو بینک سے رقم لے کر جاتے ہوئے قتل کیا گیا تھا۔ پولیس نے اس کیس میں تین ملزمان کو گرفتار کیا تھا، جو دوران حراست ہلاک ہو گئے۔