عالم اسلام متحد نہ ہوا تو حالت غزہ اور مقبوضہ کشمیر کی طرح ہوگی‘وزیردفاع
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سیالکوٹ (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ زندہ قومیں اپنے محسنوں کو ہمیشہ یاد رکھتی ہیں، قومیں جب اپنے محسنوں کے احسان بھول جاتی ہیں تو وہ اپنی منزل کھو دیتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں کلامِ اقبال کے پیغام کو زندہ اور جاوید رکھنا ہوگا اور ہم پاکستانیوں کو اقبال کے کلام کی عملی تعبیر بن کر دنیا کے لیے ایک نمونہ ثابت ہونا چاہیے۔علامہ اقبال کا جشنِ ولادت سیالکوٹ ان کے محلے میں منانا انتہائی خوش آئند ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اقبال منزل میں یومِ ولادت کی منعقدہ تقریب کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ خواجہ آصف نے کہا کہ بدقسمتی سے ہم علامہ اقبال کے اصل پیغام سے دور ہوتے جا رہے ہیں، حالانکہ انہوں نے مسلمانوں کے لیے الگ وطن کا خواب دیکھا اور پوری زندگی محبت، عزم اور لگن کے ساتھ اس کے لیے کام کیا۔ ان کے فلسفہ اور شاعری کو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں آج بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج امت مسلمہ بھٹکی ہوئی ہے اور ظلم غزہ سے لے کر مقبوضہ کشمیر تک جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں طاقت عطا فرمائے کہ ہم مظلوم بھائی بہنوں اور بچوں کی مدد کر سکیں اور ان کے حق میں آواز بلند کر سکیں۔ امت مسلمہ متحد ہو تاکہ وہی مشکلات پوری امت کو گھیر نہ لیں جو آج فلسطین اور کشمیر کے مسلمانوں کو درپیش ہیں۔ قبل ازیں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور دیگر نے اقبال منزل پر علامہ اقبال کی سالگرہ کا کیک کاٹا۔اس موقع پر علامہ اقبال کے ایصالِ ثواب اور ملک کے تحفظ کے لیے دعاکی گئی۔
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: علامہ اقبال اقبال کے انہوں نے کے لیے نے کہا
پڑھیں:
بھارت مقبوضہ کشمیر میں اپنی ریاستی دہشت گردی کو چھپانے کیلئے خود کو ‘دہشت گردی کا شکار’ظاہر کر رہا ہے، ماہرین
ماہرین کے مطابق انسداد دہشت گردی کے بارے میں مغربی طاقتوں کے ساتھ بھارت کے بڑھتے ہوئے تعاون کا مقصد بنیادی طور پر مقبوضہ کشمیر میں اپنے ظلم و بربریت کو چھپانا اور کشمیریوں کی حق پر مبنی جدوجہد آزادی کو دہشت گردی کے طور پر پیش کرنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت اور امریکہ انسداد دہشت گردی مشترکہ ورکنگ کمیٹی کے اجلاس کے دوران دہشت گردی سے متاثرہ ملک ہونے کے بھارت کے دعوے غیر قانونی طور پر زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کے اپنے ریکارڈ اور پاکستان کے خلاف جارحانہ عسکری عزائم کی وجہ سے بے نقاب ہو گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق بھارت اور امریکہ نے مشترکہ طور پر انسداد دہشت گردی کے اقدامات کے طور پر متعدد تنظیموں پر اضافی پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا۔ تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب کو بگاڑنے اور سیاسی اختلاف کو دبانے میں ملوث ہے۔ماہرین کے مطابق انسداد دہشت گردی کے بارے میں مغربی طاقتوں کے ساتھ بھارت کے بڑھتے ہوئے تعاون کا مقصد بنیادی طور پر مقبوضہ کشمیر میں اپنے ظلم و بربریت کو چھپانا اور کشمیریوں کی حق پر مبنی جدوجہد آزادی کو دہشت گردی کے طور پر پیش کرنا ہے۔ کشمیری بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنے حق خودارادیت کے حصول کیلئے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔
حالیہ دنوں میں کشمیر سے متعلق اہم پیش رفت بھارت کے بیانیے کو مزید کمزور کرتی ہے۔ بھارت نے پارلیمنٹ میں اعتراف کیا ہے کہ کالے قانون یو اے پی اے کے تحت مقبوضہ کشمیر میں بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کی جا رہی ہیں۔ 2019ء میں 227، 2022ء اور 2023ء میں 1,200 سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا۔ ان گرفتاریوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ کشمیری سیاسی کارکنوں، طلباء اور عام شہریوں کو مجرم بنانے کے لیے اس کالے قانون یو اے پی اے کو نافذ کیا گیا ہے۔ بھارتی پولیس کے سربراہ نے کشمیریوں کے قاتل ولیج ڈیفنس گارڈز کو ضم کرنے کے مطالبہ کیا ہے جس سے کشمیریوں کو مقبوضہ علاقے میں بڑے پیمانے پر ظلم و تشدد اور قتل عام کا سلسلہ دوبارہ شروع کئے جانے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ انسانی حقوق کے گروپ 2019ء کے بعد سے مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ بھارتی فوجی مقبوضہ علاقے میں کشمیریوں کے جعلی مقابلوں اور دوران حراست قتل میں ملوث ہیں۔ ادھر بھارت نے مقبوضہ علاقے میں بڑے پیمانے پر عسکری کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔
معروف بھارتی صحافی منیش پرساد کے مطابق بھارتی وزیر دفاع بارڈر روڈز آرگنائزیشن کے 125 نئے منصوبوں کا افتتاح کریں گے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا ہے کہ ان میں تزویراتی طور پر حساس شیوک ٹنل کا منصوبہ بھی شامل ہیں اور یہ منصوبے کشمیریوں کو سہولتوں کی فراہمی یا علاقے کے مفاد کے لیے نہیں ہے۔ ماہرین نے مزید کہا کہ بھارت کی جانب سے لداخ کے ساتھ جنگی نقطہ نظر پر مبنی بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، پاکستان کے کے بارے میں اس کا جارحانہ طرز عمل اور مقبوضہ کشمیر میں اس کے نوآبادیاتی منصوبوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت کا اصل چیلنج دہشت گردی نہیں بلکہ اس کے اپنے توسیع پسندانہ عزائم ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر دنیا جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی خواہاں ہے، تو اسے مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی اور انسانیت کے خلاف جرائم پر بھارت کو جوابدہ ٹھہرانا ہو گا۔