کشمیر میں آٹا پیسنے کے لیے پن چکیوں کا استعمال صدیوں سے جاری
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
کشمیر میں آج بھی آٹا بنانے کے لیے روایتی پن چکیاں استعمال ہوتی ہیں۔
مقامی زبان میں ’جندر‘ کہلانے والی یہ چکیاں مکمل طور پر قدرتی وسیلے یعنی پانی کی طاقت سے چلتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان میں آٹا پیسنے کی روایتی چکی اب بھی چلتی ہے
تیز بہتے ندی نالوں پر نصب کی گئی پتھروں سے بنی یہ چکیاں بجلی، ڈیزل یا پیٹرول کے بغیر کام کرتی ہیں۔
مقامی لوگ آج بھی ان کا استعمال کر کے نہ صرف روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں بلکہ اخراجات سے بھی بچتے ہیں۔
ماحولیاتی تبدیلیوں اور خشک سالی کے باوجود کچھ علاقوں میں یہ نظام آج بھی فعال ہے۔
مزید پڑھیے: جدید دور میں سوات کی قدیم چکی کیسے کام کرتی ہے؟
یہ پن چکیاں کشمیری ثقافت اور دیہی زندگی کا خوبصورت استعارہ سمجھی جاتی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آٹا پیسنے والی پن چکیاں پن چکیاں جندر کشمیر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔