محکمہ داخلہ کا 10 لاکھ نوجوانوں کو سول ڈیفنس کا حصہ بنانے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
سی سی او پنجاب چیریٹی کمیشن کرنل شہزاد عامر نے کہا کہ قدرتی آفات یا ہنگامی حالات میں حکومت کے شانہ بشانہ سول سوسائٹی کا کردار نہایت اہم ہے، محکمہ داخلہ پنجاب سول ڈیفنس کو جدید آلات اور تربیت کی مدد سے اپگریڈ کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ محکمہ داخلہ کا 10 لاکھ نوجوانوں کو پنجاب سول ڈیفنس ریزیلئنس کور کا حصہ بنانے کا مشن،، پنجاب چیریٹیز کمیشن اور سول ڈیفنس کے زیراہتمام قومی امن میلہ برائے نوجوانان 2025 کا انعقاد کیا گیا۔ ڈائریکٹر سول ڈیفنس نے نوجوانوں کو پنجاب سول ڈیفنس ریزیلئنس کور میں شمولیت کی دعوت دی۔ تقریب میں طلبہ، نوجوانوں، سول سوسائٹی اور متعلقہ تنظیموں نے بھرپور شرکت کی، حالیہ سیلاب اور قبل ازیں پاک بھارت کشیدگی کے دوران سول ڈیفنس کے کردار پر روشنی ڈالی گئی۔
سی سی او پنجاب چیریٹی کمیشن کرنل شہزاد عامر نے کہا کہ قدرتی آفات یا ہنگامی حالات میں حکومت کے شانہ بشانہ سول سوسائٹی کا کردار نہایت اہم ہے، محکمہ داخلہ پنجاب سول ڈیفنس کو جدید آلات اور تربیت کی مدد سے اپگریڈ کر رہا ہے۔ کرنل شہزاد عامر نے کہا کہ پنجاب چیریٹی کمیشن صوبے میں معتبر اور ذمہ دار این جی اوز کی معاونت اور رہنمائی کر رہا ہے، حکومت اور سول سوسائٹی کے مابین مضبوط شراکت داری پائیدار ترقی اور کمیونٹی امپاورمنٹ کی ضامن ہے۔
ڈائریکٹر سول ڈیفنس راؤ تسنیم علی خان نے کہا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں سول ڈیفنس اپنے ہم وطنوں کی امداد کیلئے ہراول دستے کا کردار ادا کرتا ہے، امن، سماجی استحکام اور رضاکارانہ خدمات کے فروغ میں نوجوانوں کا کلیدی کردار ہے، نوجوان بطور رضاکار رجسٹریشن کروا کر ملک و قوم کی خدمت کے مشن کا حصہ بنیں، تین ہفتوں میں 14 ہزار افراد نے بطور سول ڈیفنس رضاکار رجسٹریشن کروائی، انہوں نے کہا کہ سول ڈیفنس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے 500 ملین سے جدید آلات لیے گئے ہیں، دو روزہ نیشنل یوتھ پیس فیسٹیول میں ملک بھر سے 500 سے زائد نوجوانوں نے حصہ لیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پنجاب سول ڈیفنس سول سوسائٹی محکمہ داخلہ نے کہا کہ
پڑھیں:
دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن(Establishment Division) نے دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات، بائیومیٹرک حاضری اور لباس کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
جاری کردہ سرکلر کے مطابق تمام ملازمین کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے سرکاری اوقاتِ کار پر مکمل عمل درآمد لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ وقت پر دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلر میں سرکاری ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق افسران اور اہلکار یا تو لاؤنج سوٹ پہنیں یا پھر شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کریں تاکہ دفاتر میں پیشہ ورانہ اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
مزیدپڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے راہداریوں میں شور شرابے اور بلند آواز میں گفتگو سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پرسکون اور منظم ماحول برقرار رہے۔
سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور متعلقہ افسران کو ان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔