وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ پنجاب کے مسائل پر سیاست کرنے والے پہلے اپنے صوبے سنبھالیں، ہم اپنا کام خود کر سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح پیغام دیا کہ پنجاب کو سنبھالنے کے لیے نہ امداد مانگی جائے گی اور نہ کسی سے مشورے کی ضرورت ہے۔
ڈی جی خان میں الیکٹرو بس منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ مجھے کہا جا رہا ہے کہ دنیا سے امداد کیوں نہیں مانگتی؟ میں نواز شریف کی بیٹی ہوں، کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاؤں گی۔ امداد مانگنا عزتِ نفس کے خلاف ہے۔ پنجاب کے عوام کا پیسہ پنجاب کے عوام پر ہی خرچ ہوگا۔

سیاست کی جگہ خدمت کو ترجیح دیں
مریم نواز نے پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ  سیلاب جیسے حساس معاملے پر سیاست کی جا رہی ہے، افسوس ہوتا ہے۔ سندھ میں کیا ہو رہا ہے، اس پر بات نہیں کرنا چاہتی۔ بلاول میرا چھوٹا بھائی ہے، ان سے کہوں گی کہ اپنے ترجمانوں کو سمجھائیں، اور اپنے مشورے اپنے پاس رکھیں۔ ہم پنجاب کو سنبھالنا جانتے ہیں۔

جنوبی پنجاب کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا
وزیراعلیٰ نے کہا کہ جنوبی پنجاب کی ترقی صرف نعروں تک محدود رہی، عملی کام صرف مسلم لیگ (ن) کے دور میں ہوا۔ جنوبی پنجاب میرے لیے اپنے بیٹے جنید کی طرح ہے، اسے نظر انداز نہیں ہونے دوں گی۔ میں صرف وسطی پنجاب کی نہیں، پورے پنجاب کی وزیراعلیٰ ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں جنوبی پنجاب کے نام پر سیاست کی گئی، لیکن ہم یہاں عملی اقدامات کر رہے ہیں — جیسے اسکولوں میں بچوں کو دودھ کی فراہمی، بس سروس، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی۔

بی آئی ایس پی پر تنقید اور اپنی حکومت کی اسکیموں کا ذکر انہوں نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بی آئی ایس پی میں صرف 10 ہزار روپے دیے جاتے ہیں، جبکہ ہم متاثرہ خاندانوں کو 10 لاکھ روپے تک کی مالی امداد دینا چاہتے ہیں۔ جس کا لاکھوں کا نقصان ہوا ہو، اسے 10 ہزار سے کیا فرق پڑے گا؟
پہلی بار ای-بس منصوبہ جنوبی پنجاب تک
وزیراعلیٰ نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی پنجاب میں پہلی بار الیکٹرو بسیں چلائی جا رہی ہیں ،ڈی جی خان ڈویژن کے لیے 101 بسیں چلائی جائیں گی،لیہ، مظفرگڑھ، راجن پور، تونسہ، اور کوٹ ادو میں ماحول دوست بسیں متعارف کرائی جا رہی ہیں،خواتین، طلبہ، بزرگ اور خصوصی افراد کے لیے سفری سہولیات مفت ہوں گی۔
بسوں میں خواتین کے لیے محفوظ اور باعزت علیحدہ جگہ، اور معذور افراد کے لیے ریمپ کی سہولت موجود ہے۔

خواتین کی شمولیت اور مساوی ترقی پر زور
وزیراعلیٰ نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ بارڈر ملٹری پولیس میں پہلی بار خواتین کی بھرتی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم تمام شہروں کو برابر ترقی دینا چاہتے ہیں، صرف بڑے شہروں پر نہیں، ہر علاقے کو آگے لے کر جانا ہمارا عزم ہے۔”
مریم نواز شریف نے واضح کیا کہ وہ پنجاب کی قیادت خود کر رہی ہیں، اور کسی کو اجازت نہیں دیں گی کہ صوبے کے عوام کو سیاسی تنقید کا نشانہ بنایا جائے۔ کسی کو پنجاب کے عوام کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی اجازت نہیں دوں گی۔

Post Views: 2.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: مریم نواز پنجاب کی پنجاب کے انہوں نے پنجاب کو کے عوام نے کہا کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری۔فوٹو: فائل

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ ہوئے، ورلڈ سمٹ آن دی انفارمیشن سوسائٹی (ڈبلیو ایس آئی ایس) میں دو منصوبوں کی شارٹ لسٹنگ کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اقوامِ متحدہ ڈبلیو ایس آئی ایس پرائز 2026 میں پنجاب کا ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی میرا پیارا عالمی چیمپئن پروجیکٹ قرار پایا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پروجیکٹ دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل ہوگیا۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت کا ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پروجیکٹس میں شارٹ لسٹ ہوگیا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب، ماؤں کی گودیں ہری ہو گئیں، حکومت نے 3 ہزار اسپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا، بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے 1,45,772 کیسز رپورٹ، 1,36,157 کیسز کو کامیابی سے حل کیا گیا، رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ،7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔

صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741 بچوں میں سے 53,811 بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملا دیا گیا، ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989 بچے ملے، 21,178 کو خاندانوں کے سپرد کیا گیا، اس وقت سسٹم میں 930 بچے لاپتہ اور 1,811 بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں۔

وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ بچوں پر تشدد اور ابیوز کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، 5,075 ایف آئی آرز درج کی گئیں، چائلڈ ابیوز کیسز میں 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168 مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں، بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل ابیوز کے 191 کیسز سامنے آئے، 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خصوصی افراد کے مجموعی طور پر 4,377 کیسز رپورٹ ہوئے، 2,984 افراد کو بازیاب کروا کے خاندانوں سے ملایا گیا، خصوصی افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس نے اب تک 646 ایف آئی آرز درج کیں، چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں 251 اور دارالامان میں 14 متاثرہ افراد کو فوری پناہ اور حکومتی سرپرستی فراہم کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے میرا پیارا یو این گلوبل چیمپئن قرار دیے جانے پر اظہار تشکر کیا۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور