جامعہ کراچی؛ طارق محمود کی ایل ایل بی کی ڈگری منسوخ، نوٹیفکیشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
کراچی:
جامعہ کراچی کی انتظامیہ نے طارق محمود ولد قاضی محمد اکرم کا ایل ایل بی کا نتیجہ اور ڈگری منسوخ کر دی ہے اور جامعہ کراچی اس نتیجے سے دستبردار ہوگئی ہے۔
یونیورسٹی کے رجسٹرار عمران احمد صدیقی کی جانب سے ڈگری کی منسوخی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں جامعہ کراچی کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ سینڈیکیٹ کے منعقدہ 31 اگست 2024 کے اجلاس کی قرارداد 6 کے تحت اور unfairmeans کمیٹی کی تجاویز کی روشنی میں طارق محمود ولد قاضی محمد اکرم ناجائز ذرائع کے استعمال میں پائے گئے اور انھیں 3 سال کے لیے debarre کیا گیا تھا، وہ کسی بھی کالج یا یونیورسٹی میں داخلہ نہیں لے سکیں گے۔
اس سرکلر کے تحت وہ کسی امتحان میں شریک نہیں ہوں گے جبکہ وہ کبھی بھی اسلامیہ لاء کالج کراچی کے طالب علم بھی نہیں رہے لہٰذا اسسٹنٹ رجسٹرار نے ان کے ایل ایل بی انرولمنٹ نمبر AIL -7124/87 منسوخ کیا۔
سینڈیکیٹ کی اس روداد و فیصلے پر عمل درآمد کے تحت طارق محمود سیٹ نمبر 22857 اور انرولمنٹ نمبر، AIL-7124/87 کا ایل ایل بی کا نتیجہ اور ڈگری منسوخ کی جاتی ہے۔ مذکورہ نوٹیفکیشن وائس چانسلر کی منظوری سے جاری کیا گیا ہے۔
فیصلے کی اطلاع اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار، سندھ ہائی کورٹ کے رجسٹرار، چیف سیکرٹری سندھ، سیکریٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈز، ایچ ای سی پاکستان، سندھ ایچ ای سی، سندھ بار کونسل، پرنسپل اسلامیہ لاء کالج اور متعلقہ اداروں کو بھی دے دی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جامعہ کراچی ایل ایل بی
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔