جو پارٹی چھوڑ کر گیا، اس کی واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہوگا، خالد مقبول
اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT
چیئرمین متحدہ قومی موومنٹ خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے جو اس بار پارٹی چھوڑ کر گیا، اس کے لیے واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہوگا اور جو جماعت میں اپنے لیے کام کر رہا ہے، وہ اپنا قبلہ درست کرے۔
اورنگی ٹاؤن میں ایم کیو ایم پاکستان کے تحت جشنِ آزادی کی مناسبت سے تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں پارٹی چیئرمین خالد مقبول صدیقی، ایم کیو ایم رہنما امین الحق، سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی سمیت دیگر نے خطاب کیا۔
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ماہ مئی میں پاک افواج نے بھارت کا ناقابلِ شکست ہونے کا تاثر ختم کر دیا اور دنیا اب بھارت کو مختلف نظر سے دیکھ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2018 میں الیکشن ہم جیتے لیکن نتیجہ کسی اور کے نام آیا، سندھو دیش کے خواب کو ہم ہی خاک میں ملا سکتے ہیں، اداروں سے مطالبہ ہے کہ سندھ میں ایمانداری سے مردم شماری کرائی جائے تاکہ مزید صوبوں کی بات ہم نہیں کوئی اور کرے۔
چیئرمین متحدہ نے اپنی جماعت کے لوگوں کو آگاہ کیا کہ اس بار جو پارٹی چھوڑ کر گیا اس کے لیے واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: خالد مقبول
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔