افغان طالبان کی جانب سے پاکستان پر بلا اشتعال جارحیت کے خلاف ملک بھر میں عوام نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے پاک فوج اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے۔

عوام نے دشمن کو منہ توڑ جواب دینے پر افواجِ پاکستان کو زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے اور واضح پیغام دیا ہے کہ ملکی دفاع کے لیے پوری قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ پاک فوج نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے افغان طالبان کے جارحانہ عزائم خاک میں ملا دیے۔ ’’ہم نے افغانیوں کی چالیس سال تک خدمت کی، مگر انہوں نے ہماری پشت میں چھرا گھونپا اور مودی کی گود میں جا بیٹھے۔‘‘

شہریوں نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام نے خاص طور پر افغان مہاجرین کی طویل مہمان نوازی کا ذکر کرتے ہوئے افغان طالبان کے حالیہ اقدام کو بدترین ناشکری قرار دیا۔

شہریوں نے افغان طالبان کی جانب سے شہری آبادیوں کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ پاکستان نے صرف دہشتگرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جو بین الاقوامی قوانین کے مطابق دفاعی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

ایک شہری نے دو ٹوک انداز میں دشمن کو خبردار کیا کہ ’’جو بھی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے گا، ہم اس کی آنکھ نکال دیں گے۔‘‘

عوام نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ افغان طالبان کی اس جارحیت کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، جو اپنی روایتی دشمنی کو افغانستان کے راستے پاکستان میں منتقل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

شہریوں کا کہنا تھا کہ بھارت اپنی جنگ خود لڑنے کی سکت نہیں رکھتا، اس لیے اب افغان طالبان کو پراکسی کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

عوام نے حکومتِ پاکستان اور افواجِ پاکستان سے مکمل اظہارِ اعتماد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ملک کی سالمیت پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے اور ہر جارحیت کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے۔

شہریوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ پاک فوج کو مزید طاقت، ہمت اور بصیرت عطا فرمائے تاکہ وہ ہر قسم کے داخلی و خارجی خطرات سے ملک کو محفوظ رکھ سکیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: افغان طالبان کی کرتے ہوئے عوام نے پاک فوج

پڑھیں:

جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی

تہران:

ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔

 

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔

مزید پڑھیں

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔

ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار