قانون کے طالبعلم پر تشدد، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکاروں پر درج مقدمے کی تحقیقات کی منتقلی کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی میں قانون کے طالب علم پر پولیس کے مبینہ تشدد کے کیس کی سماعت ہوئی۔
عدالت نے ایس ایچ او ڈیفنس سمیت 6 پولیس اہلکاروں کے خلاف درج مقدمے کی تحقیقات منتقلی کا انسپکٹر جنرل ( آئی جی ) سندھ کو حکم دیا ہے ۔
عدالتی حکم میں کہا کہ کیس کی تفتیش ڈی ایس پی سراج لاشاری یا ڈی ایس پی عبدالقدوس کلہوڑ کو دی جائے۔
عدالت نے کہا کہ اگر یہ دونوں افسران دستیاب نہ ہوں تو کسی ڈی ایس پی رینک کے افسر کو تفتیش دی جائے، کیس کی شفاف تحقیقات کراکےمتاثرہ طالب علم کو انصاف فراہم کیا جائے، عدالتی احکامات پر بلاتاخیر عملدرآمد کیا جائے۔
عدالتی احکامات کی نقول آئی جی سندھ، ایس ایس پی انویسٹی گیشن کو بھیجنے کا حکم دیا، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ایس ایچ او ڈیفنس کے خلاف درج مقدمہ کی تفتیش اسی تھانے میں غیرجانبدارنہ نہیں ہوسکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ایس پی
پڑھیں:
قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
وفاقی آئینی عدالت میں اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز نظرثانی درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کردیے۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ عدالت نے کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا، ماریہ شہباز کم عمر ہے اسے ورغلا کر مذہب تبدیلی کرائی گئی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ عمر کم بھی ہو تو ایک شادی اگر ہوجائے تو قانون میں اس کا حل کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ شادی کیلئے 18 سال کی عمر کا قانون ہے، قانون کی خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، بچی نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے آئینی عدالت تک کہیں نہیں کہا کہ اس کیساتھ زبردستی ہوئی،
آپ کا اسرار ہے تو اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل سے معاونت لے لیتے ہیں۔
عدالت نے مقدمہ کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی، جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی۔
آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کی والد کو حوالگی کی درخواست خارج کی تھی، عدالت نے قرار دیا تھا کہ بچی کے تنسیخ نکاح کیلئے سول کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق حبس بیجا اور حوالگی کے کیس میں تنسیخ نکاح کی کارروائی نہیں ہوسکتی