گورنر سندھ سے اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ باقر قالیباف کی ملاقات، تجارت سمیت دوطرفہ تعاون پر گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
گورنر کامران خان ٹیسوری نے کہا کہ تجارت، سرمایہ کاری اور سرحدی تعاون کے شعبوں میں پیش رفت دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔ اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ باقر قالیباف نے گورنر سندھ کی میزبانی اور گرمجوش استقبال پر اظہارِ تشکر کیا اور گورنر سندھ کو مشہد میں ملاقات کی خصوصی دعوت بھی دی۔ متعلقہ فائیلیںاسلام ٹائمز۔ گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری سے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے فروغ، معاشی تعاون، علاقائی روابط اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم، کراچی میں تعینات ایرانی قونصل جنرل اور دیگر سفارتی حکام بھی موجود تھے۔
گورنر سندھ نے اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایران دیرینہ برادرانہ تعلقات میں مزید وسعت کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تجارت، سرمایہ کاری اور سرحدی تعاون کے شعبوں میں پیش رفت دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔ اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ باقر قالیباف نے گورنر سندھ کی میزبانی اور گرمجوش استقبال پر اظہارِ تشکر کیا اور گورنر سندھ کو مشہد میں ملاقات کی خصوصی دعوت بھی دی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ باقر قالیباف گورنر سندھ
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔