کراچی: لانڈھی میں پانی کے ٹینکر نے موٹرسائیکل سوار نوجوان کی جان لے لی
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
— فائل فوٹو
کراچی کے علاقے لانڈھی میں پانی کے ٹینکر نے موٹرسائیکل سوار نوجوان کی جان لے لی۔
پولیس کے مطابق لانڈھی فیوچر موڑ کے قریب پانی کے ٹینکر کی زد میں آکر موٹرسائیکل سوار جاں بحق ہوگیا۔
پولیس نے بتایا کہ جاں بحق نوجوان محمد فصیح کی عمر 27 سال ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ڈرائیور ٹینکر چھوڑ کر فرار ہوگیا، ٹینکر تحویل میں لے لیا گیا، واقعہ سے متعلق مزید معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔
پولیس نے ٹینکر ڈرائیور طاہر خان کو گرفتار کرلیا ہے، جسے ٹینکر سمیت تھانے منتقل کردیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد کراچی میں رواں سال ہیوی ٹریفک کے حادثات میں جاں بحق افراد کی تعداد 138ہوگئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔