کراچی: بلدیہ لکی چڑھائی میں واٹر ٹینکر کی ٹکر سے نوجوان جاں بحق، ڈرائیور فرار
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: بلدیہ لکی چڑھائی جامعہ فاروقیہ مدرسہ کے قریب ایک نوجوان بائیک سوار کو واٹر ٹینکر نے کچل دیا، جس کے نتیجے میں وہ جاں بحق ہوگیا، حادثے کے وقت نوجوان موٹر سائیکل پر سوار تھا۔
میڈیا رپورٹس کےمطابق پولیس اور چھیپا رضا کاروں کی مدد سے متوفی کی لاش سول اسپتال منتقل کر دی گئی، نوجوان کی عمر تقریباً 28 سال تھی اور فوری طور پر شناخت نہیں ہوسکی۔
واقعے کے بعد واٹر ٹینکر کا ڈرائیور فرار ہوگیا، پولیس نے واٹر ٹینکر قبضے میں لے لیا ہے اور نوجوان کی موٹر سائیکل بھی تھانے منتقل کر دی گئی ہے، ایس ایچ او موچکو فیصل لطیف کے مطابق واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور فرار ڈرائیور کی تلاش کی جا رہی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ کراچی کی سڑکوں پر ڈمپر اور بھاری گاڑیوں کی تیز رفتار ٹریفک کے باعث حادثات عام ہوگئے ہیں اور انتظامیہ کو فوری اقدامات کر کے سڑکوں کو محفوظ بنانا چاہیے۔
رپورٹس کے مطابق رواں سال کراچی میں ڈمپر اور بھاری گاڑیوں کے حادثات میں اب تک کم از کم 35 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: واٹر ٹینکر
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔