ایران اسرائیل جنگ بندی؛ پی آئی اے کا خلیجی ممالک کیلیے فضائی آپریشن بحال
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
کراچی:
ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے باضابطہ اعلان کے بعد خلیج فارس کی صورتحال بہتر ہونے پر پی آئی اے کا فضائی آپریشن بحال ہونا شروع ہوگیا۔
پی آئی اے نے پاکستان سے قطر، بحرین، کویت اور دبئی کا فضائی آپریشن بحال کر دیا۔
پروازوں کے شیڈول کی منسوخی کا فیصلہ خلیجی ممالک میں جنگی صورتحال کے باعث کیا گیا تھا تاہم حالات معمول پر آنے کے بعد پی آئی اے کی پروازیں دوبارہ شروع کر دی گئیں۔
ترجمان پی آئی اے کے مطابق مسافروں سے گزارش ہے کہ اپنی پروازوں سے متعلق بروقت معلومات پی آئی اے کال سینٹر سے حاصل کریں۔ پی آئی اے کے ریزرویشن محکمے نے مسافروں کی بکنگ کو دوسری پروازوں پر منتقلی کا کام شروع کر دیا ہے۔
منسوخی سے ہونے والی زحمت کے لیے معذرت خواہ ہیں مگر مسافروں کی حفاظت تمام امور پر مقدم ہے۔
آپریشن بحال ہونے کے بعد پروازیں 4 سے 13 گھنٹے تاخیر کا شکار ہیں۔ کراچی، لاہور اور اسلام آباد سمیت مختلف ایئرپورٹس کی 55 پروازوں میں تاخیر دیکھی جا رہی ہے جبکہ غیر ملکی ایئرلائن کی کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور وار سیالکوٹ کی 14 پروازیں بھی شامل ہیں۔
کراچی سے جدہ، دوحہ اور استنبول کی 8 پروازیں منسوخ کی گئیں۔ کراچی سے دبئی کی غیر ملکی ایئرلائن کی 2 پروازیں منسوخ کی گئیں جبکہ لاہور سے شارجہ، مسقط اور ریاض کی 5 پروازیں منسوخ ہوئیں۔
قومی ایئر لائن کی لاہور سے مدینہ کی پرواز پی کے 747 میں 13 گھنٹے، دوحہ سے کراچی لاہور کے لیے غیر ملکی ایئرلائن کی پرواز میں 10 گھنٹے، اسلام آباد سے دبئی کے لیے قومی ایئرلائن کی پرواز پی کے 233 میں 15 گھنٹے اور بحرین سے اسلام آباد کی 2 پروازوں میں 4 گھنٹے کی تاخیر ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایئرلائن کی اسلام آباد پی ا ئی اے
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔