ویب ڈیسک: ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے باضابطہ اعلان کے بعد خلیج فارس کی صورتحال بہتر ہونے پر پی آئی اے کا فضائی آپریشن بحال ہونا شروع ہوگیا۔

پی آئی اے نے پاکستان سے قطر، بحرین، کویت اور دبئی کا فضائی آپریشن بحال کر دیا۔

پروازوں کے شیڈول کی منسوخی کا فیصلہ خلیجی ممالک میں جنگی صورتحال کے باعث کیا گیا تھا تاہم حالات معمول پر آنے کے بعد پی آئی اے کی پروازیں دوبارہ شروع کر دی گئیں۔

یوٹیوب ویڈیوز کو اے آئی ٹولز کی تربیت کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے

ترجمان پی آئی اے کے مطابق مسافروں سے گزارش ہے کہ اپنی پروازوں سے متعلق بروقت معلومات پی آئی اے کال سینٹر سے حاصل کریں۔ پی آئی اے کے ریزرویشن محکمے نے مسافروں کی بکنگ کو دوسری پروازوں پر منتقلی کا کام شروع کر دیا ہے۔

منسوخی سے ہونے والی زحمت کے لیے معذرت خواہ ہیں مگر مسافروں کی حفاظت تمام امور پر مقدم ہے۔

آپریشن بحال ہونے کے بعد پروازیں 4 سے 13 گھنٹے تاخیر کا شکار ہیں۔ کراچی، لاہور اور اسلام آباد سمیت مختلف ایئرپورٹس کی 55 پروازوں میں تاخیر دیکھی جا رہی ہے جبکہ غیر ملکی ایئرلائن کی کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور وار سیالکوٹ کی 14 پروازیں بھی شامل ہیں۔

3ہزار سکول و مدارس میں واٹر فلٹریشن پلانٹس لگانے کی منظوری

کراچی سے جدہ، دوحہ اور استنبول کی 8 پروازیں منسوخ کی گئیں۔ کراچی سے دبئی کی غیر ملکی ایئرلائن کی 2 پروازیں منسوخ کی گئیں جبکہ لاہور سے شارجہ، مسقط اور ریاض کی 5 پروازیں منسوخ ہوئیں۔

قومی ایئر لائن کی لاہور سے مدینہ کی پرواز پی کے 747 میں 13 گھنٹے، دوحہ سے کراچی لاہور کے لیے غیر ملکی ایئرلائن کی پرواز میں 10 گھنٹے، اسلام آباد سے دبئی کے لیے قومی ایئرلائن کی پرواز پی کے 233 میں 15 گھنٹے اور بحرین سے اسلام آباد کی 2 پروازوں میں 4 گھنٹے کی تاخیر ہے۔

ملائیشیا کے شہر کوالالمپور میں شاندار میوزیکل کارپٹ ایونٹ منعقد

Ansa Awais Content Writer.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: لاہور لاہور لاہور لاہور لاہور ایئرلائن کی اسلام آباد پی ا ئی اے کے لیے

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا