لاہور سے اغوا ہونے والی 16 سالہ لڑکی بازیاب، ملزم گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
لاہور:باغبانپورہ کے علاقے سے اغوا ہونے والی جواں سال لڑکی کو بازیاب کروا کر ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔
مغویہ 16 سالہ لائبہ 12 روز قبل باغبانپورہ سے لاپتا ہوگئی تھی۔ والد کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
ترجمان ڈولفن کے مطابق ملزم لڑکی کو لے کر لاہور میں مختلف جگہوں پر روپوش رہا، ملزم آج صبح لڑکی کو فیصل آباد لے کر جا رہا تھا کہ بابو صابو کے ناکے پر گرفتار ہوگیا۔
لڑکی کے اغوا کا مقدمہ 2591/25 تھانہ باغبانپورہ میں درج ہے، 25 سالہ نعیم نامی ملزم نے چند روز قبل باغبانپورہ سے لڑکی کو اغوا کیا تھا۔
ناکہ شیرا کوٹ نے لائبہ کے والدین کو بچی کی بازیابی کے حوالہ سے مطلع کر دیا۔ ایس پی ارسلان زاہد کے مطابق ملزم نعیم اور لائبہ مزید قانونی کارروائی کے لیے تھانہ شیرا کوٹ منتقل کر دیا گیا۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: لڑکی کو
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔