صوبہ سندھ: سرکاری درسی کتب کی فروخت میں ملوث افسر اور عملہ معطل
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: صوبائی وزیر تعلیم سندھ نے نصیر آباد میں مفت سرکاری درسی کتب کی فروخت کانوٹس لے لیا، سید سردار علی شاہ متعلقہ افسر اور عملے کو معطل کردیا گیا۔
میڈیا ذرائع کے مطابق نصیرآباد میں درسی کتب کی فروخت پر وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ نے نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ افسر اور عملے کے خلاف کارروائی کی ہدایت کردی۔
صوبائی وزیرتعلیم کی ہدایت پر درسی کتب کی مبینہ فروخت کے الزام میں تعلقہ ایجوکیشن افسر نصیرآباد اور اسسٹنٹ ویئر ہاؤس کو معطل کردیا گیا ہے۔
مفت سرکاری درسی کتب کی فروخت میں ملوث افسران و عملے کے خلاف ایفشیئنسی اینڈ ڈسیپلینری رولز کے تحت کارروائی کی جائےگی۔
صوبائی وزیر سید سردار علی شاہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مفت کتب طلبا کا حق ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: درسی کتب کی فروخت
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔