حکومت نے تمام مطالبات مانے اس لیے بجٹ کو سپورٹ کر رہے ہیں، بلاول بھٹو
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی میں 20 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، ہم خوشی کے ساتھ اس بجٹ کو سپورٹ کر رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ حکومت نے ہمارے تمام مطالبات مانے اس لیے بجٹ کو سپورٹ کر رہے ہیں۔ قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بی آئی ایس پی میں 20 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، ہم خوشی کے ساتھ اس بجٹ کو سپورٹ کر رہے ہیں۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ہر بجٹ میں بی آئی ایس پی پروگرام میں کمی کی کوشش کی، جب سے وزیراعظم شہباز شریف آئے ہر بجٹ میں بی آئی ایس پی میں اضافہ ہوا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ تنخواہ داروں کیلئے ٹیکس میں کمی کی گئی، ہمارے کہنے پر حکومت سولر ٹیکس میں 50 فیصد کمی لائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے اعتراض کے بعد ایف بی آر قوانین میں تبدیلی لائی گئی، ہم وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر خزانہ کے شکر گزار ہیں، ہماری بات مانی گئی اس لیے بجٹ کو سپورٹ کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بجٹ کو سپورٹ کر رہے ہیں بی ا ئی ایس پی بلاول بھٹو نے کہا کہ
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔