data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ماسکو: روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ روس چاہتا ہے کہ ایران بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے ) کے ساتھ تعاون جاری رکھے۔

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’ ہم اس بات میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ ایران کا آئی اےای اے کے ساتھ تعاون جاری رہے۔’

واضح رہے کہ ایرانی پارلیمنٹ نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے اپنی جوہری تنصیبات پر حملوں کے بعد بدھ کے روز ایک بل کی منظوری دی تھی جس کے تحت آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون معطل کرنے کی منظوری دی گئی۔

پارلیمنٹ کے بعد یران کی نگہبان شوریٰ نے بھی عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) سے تعاون معطل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

روس، جس کے ایران کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات ہیں، نے امریکی و اسرائیلی حملوں کی مذمت کی اور کہا کہ تہران کو پرامن جوہری توانائی کے پروگرام کا حق حاصل ہے۔

سرگئی لاوروف نے ایرانی پارلیمان کی جانب سے آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون معطل کرنے کی منظوری کے بارے میں کہا کہ ایرانی پارلیمنٹ کو عملی اختیارات حاصل نہیں، اس لیے اس کا فیصلہ مشاورتی نوعیت کا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ’ ہم چاہتے ہیں کہ سب لوگ ایران کے سپریم لیڈر کا احترام کریں، جنہوں نے بارہا یہ بیان دیا ہے کہ ایران کا ایٹمی ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہ تھا، نہ ہے، اور نہ ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے ساتھ تعاون ا ئی اے ای اے کی منظوری کہ ایران کہا کہ

پڑھیں:

امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر

ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے  ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔

کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
  • مردان قتل کیس: ملزمان مغوی بچوں کو چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر فرار، تحقیقات جاری
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز